جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مزارات اولیاء کرام کو بند کر دیا گیا ، نو ٹیفکیشن جاری

datetime 15  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)پنجاب کے بعد سندھ میں بھی مزارات اولیاء کرام کو بند کر دیا گیا ضمن میں چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف شریف شیخ کی جانب سے باضابطہ نو ٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا مزارات کی بندش کے حکم نامے کے بعد سندھ کے عظیم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے عرس مبارک کی تقریبات پر دوسرے سال بھی پابندی رہے گی

کراچی میں بھی سید غائب شاہ بخاریؒ کیماڑی والے کا عرس گذشتہ سال کی طرح امسال بھی نہیں منایا جا سکے گا کراچی میں مزارات اولیاء کرام کی بندش کا حکم نامہ جاری ہوتے ہی محکمہ اوقاف کے افسران سیکورٹی اداروں کے ہمراہ مزارات بند کرانے کیلئے سہ پہر پونے چار بجے پہنچے جہاں زائرین اور سرکاری ملازمین میں تکرار اور بحث و مباحثہ ہوا زائرین نے کرونا کی آر میں مزارات کی بندش کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی ذیادتی کیا ہو گی کہ مزار سید عبداللہ شاہ غازی سے متصل پلے لینڈ جہاں تماشائیوں کا ہجوم رہتا ہے وہ کھلا رکھنے کی ا جازت ہے اور مزار سید عبداللہ شاہ غازی جہاں ایس او پی کا مکمل خیال رکھا جارہا تھا جہاں زائرین کے داخلے کیلئے ماسک کا استعمال ضروری تھا جہاں زائرین کیلئے دو سینیٹائزر گیٹ نصب تھے زائرین سماجی دوری کے فامولے پر عمل پیرا تھے اسے بند کر دیا گیا الغرض جہاں سے کرونا پھیلنے کا اندیشہ ہے وہاں آزادی اور جہاں کرونا کی روک تھام کیلئے اقدامات تھے وہاں پابندی لگا دی گئی سید عبداللہ شاہ غازی مزار پر زائرین کا کہناتھا کہ حکومت کو جان لینا چاہیے کہ مزارات اولیاء دارالوباء نہیں بلکہ دارالشفاء ہیں یہاں لوگوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں لوگوں کو سکون قلب ملتا ہے یہان تک کہ مزارات اولیاء کرام

سے یومیہ لاکھوں افراد کا پیٹ بھرتا ہے یہاں رات گئے تک ضروت مندوں میں لنگر تقسیم کیا جاتا ہے مزارارت اولیاء کرام کی بندش ان مجبور اور بے کس طبقے سے ذیادتی اور ظلم کے مترادف ہے لہذا حکومت مزارات کی ایک سال کے دوران تیسری بار بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…