جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے حافظ حسین احمد نے پی ڈی ایم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

کرمانوالہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں پی ڈی ایم کو نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے اور ادھر کے، زرداری نے ایک ایک کرکے مسلم لیگ ن کے پرانے حساب چکادئیے ہیں اور سب سے زیادہ نقصان کا

سامنا مولانا فضل الرحمن کو کرنا پڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے اوکاڑہ میڈیا سیل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور قوتوں نے زرداری کے توسط سے پی ڈی ایم کا مخالفانہ ٹریک ہی تبدیل کردیا، 20ستمبر 2020کے اجلاس میں پی ڈی ایم کی قیادت نے سینٹ کے جس الیکٹورل کالج کو ختم کرنے، قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے اور ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا حتمی فیصلہ کیا تھا لیکن زرداری نے کسی کے اشارے پر اسی قومی اسمبلی سے پی ڈی ایم کو سینٹ کا الیکشن لڑوایا اور آج اس الیکٹورل کالج جس کو وہ ختم کرنا چاہتے تھے اس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن لڑا لیکن مکافات عمل ہے کہ قومی اسمبلی میں جو کچھ پی ڈی ایم نے کیا وہی کچھ حکومت نے سینٹ میں ان کے ساتھ کیا، انہوں نے کہا کہ وہاں بھی سات کا ہندسہ شکست کا باعث بنا اور یہاں بھی سات ووٹ مسترد ہوئے، سات کے ہندسے نے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہی ہاتھ کردیا، حافظ حسین احمد نے کہ جے یو آئی کو بند گلی میں پہنچانے والے مولانا فضل الرحمن کو سوچنا چاہئے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اڑھائی سال سے جے یو آئی کو دو بڑی جماعتیں جس طرح ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کرتی رہی آج اس کا انجام سامنے آچکا ہے، انہوں نے کہا کہ اب بھی 26مارچ کے مجوزہ رینٹل مارچ سے پیپلز پارٹی جان چھڑانے کی کوشش کرے گی اس لیے جے یو آئی کے کارکنان محتاط رہیں رمضان کی آمد ہے وہ نہ نکلیں اور اگر نکلنا بھی ہو تو 29مارچ کو نکلیں تاکہ دو بڑی جماعتوں کا رینٹل مارچ میں سنجیدگی کا پتہ چل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…