جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں 4 منزلہ عمارت میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

datetime 12  مارچ‬‮  2021 |

کراچی ( آن لائن )جونیجو ٹاون میں 4 منزلہ عمارت میںدھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی،عمارت میں بڑی تعداد میں مختلف اقسام کی گولیاں ودیگر سامان موجودتھا،سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ایک شخص کوحراست میں بھی لیا، گولیاں کس کی تھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق جمعے کی صبح دس بجکر 55منٹ پر بلوچ کالونی کے علاقے جونیجو ٹاؤن گلی

نمبر 6 مکان نمبر 13/14 میں واقع مکان میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا علاقہ مکینوں نے فوری طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دی فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا ،فائر بریگیڈ کے مطابق مختلف اقسام کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا، جبکہ آگ لگنے کی اطلاع پرپولیس اور رینجرز بھی موقع پر پہنچ گئی آگ پر قابو پائے جانے کے بعد جب رینجرز گودام میں گئی تو دیکھا ایک مقام پر صندوق میں سیکٹروں کی تعداد میں مختلف اقسام کے ہتھیاروں کی گولیاں رکھی ہوئی ہیں جسے تحویل میں لے لیا گیا ، علاقہ مکینوں نے بتایا جمال الدین طارق نامی شخص ایک حساس ادارے کا کنٹریکٹر ہے سوال یہ ہے کہ اتنے بڑی تعداد میں آبادی کے درمیان گودام میں گولیاں کیوں رکھی گئی ہیں ، جبکہ فائر بریگیڈترجمان اور پولیس کا کہناتھا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور مکمل طو پرگولیوں تک نہیں پہنچی ،تاہم چندگولیاں پھٹنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے ایک شخص کو حراست میں لے رکھا ہے،گودام میں موجود تمام باکسز،تھیلوں اور دیگر سامان حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ، حراست میں لئے جانے والے شخص نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایاہے کہ گھر میں ویئر ہاؤس بنایا گیا تھا،پولیس حکام کے مطابق متاثرہ گھر سول ایوی ایشن کے ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر جمال الدین طارق کی ملکیت ہے،پولیس کے مطابق گودام میں سکیورٹی کیمرے اور الیکٹرونکس کا سامان بھی تھا، ایس پی فاروق بجرانی نے میڈیا کو بتایا کہ گودام میں آگ لگنے کے بعدبھاری تعدادمیں جدیداسلحہ کی گولیاں برآمد ہوئی ،قانون نافذکرنیوالے ادارے نے ملنے والی گولیاں قبضے میں لے لی ہے، انھوں نے بتایاکہ گودام سے ملنے والے گولیاں اوردیگرسامان پولیس نے تحویل میں نہیں لیا،پولیس کے مطابق گودام میں الیکٹرک کاسامان بھی موجودتھا، ایس پی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات حساس ادارے کے افسران خود کررہے ہیں وہ اپنی تفتیش کے بعد پولیس سے رابطہ کرینگے ااور اصل حقائق سامنے آسکے گے ، بم ڈسپوزل یونٹ کے افسر نے بتایا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث ہی لگی تھی گھر میں موجود بھاری تعداد میں سرکاری گولیوں کے صندوق موجود تھے آگ لگنے سے چند گولیوں کا بارود پھٹ گیا تاہم گھرسے کوئی بم اور گولہ بارود پھننے کے شواہد نہیں ملے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…