جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ایوان سے غیر حاضر رکن کو وزیراعظم نے دھمکیاں دیں، اداروں نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دلایا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 9  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے اداروں نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دلایا، ایوان سے غیر حاضر رکن کو وزیراعظم نے دھمکیاں دیں، اسپیکر قومی اسمبلی خاموش رہے، جب تک آئین اور قانون کے راستے پر واپس نہیں آئیں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔احتساب

عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا کے پارلیمان کا اصول ہے جو آدمی ایوان میں نہ ہو اس کی بات نہیں کرسکتے۔شاہد خاقان نے کہا کہ ملک میں اخلاقیات کی پرواہ ختم ہوچکی ہے،اپوزیشن کو دھمکیاں اور گالیاں دیں گئیں، اسپیکر صاحب خاموش رہے انہیں ہاؤس چلانے کا اور اخلاقی قدروں کا علم نہیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی صاحب کے الیکشن سے پہلے بھی ارکان کو دھمکیاں دی گئیں۔سابق وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ روز پی ڈی ایم اجلاس میں بات ہوئی کہ کس طرح ملک کو راہ راست پر لایا جائے، اس حکومت کی حیثیت کیا ہے پورا پاکستان جانتا ہے، آج ملک کا وزیر اعظم وہ شخص ہے جس کا اپنا وزیرخزانہ اپنے ایم این ایز کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے۔شاہد خاقان نے کہا کہ حکومت تو ہارس ٹریڈنگ کر چکی ہے، 70 کروڑ بلوچستان میں کس نے دئیے؟ 50،50 کروڑ فنڈ کا وعدہ سیاسی رشوت نہیں تو کیا ہے، وزیراعظم نے ایک ایک ایم این اے کو بلا کر فنڈز دیے، ملک میں پارلیمان کا نظام مفلوج ہے۔ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان نے کہا کہ عدم اعتماد پنجاب میں لائیں یا وفاق میں، ہمارے پاس مختلف آپشنز ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ الیکشن ہار جائے تو اسے استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔شاہد خاقان نے کہا کہ براڈ

شیٹ کمیشن کا کیا ہوا؟ کسی کو پتہ نہیں، چیئرمین نیب کے دفتر میں ڈاکہ پڑتا ہے، کسی کو پتہ نہیں، وزیراعظم کون سے قانون کے تحت اعتماد کا ووٹ لیتے ہیں، کسی کو معلوم نہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کے خود اعتماد کا ووٹ لینے کی گنجائش نہیں، عمران خان نے پوری اپوزیشن کو دھمکیاں دیں،

چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آنے والا ہے، چیئرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے پر جو ہوا وہ اب دوبارہ نہیں ہوگا۔لیگی رہنما نے کہا کہ جو 6 مارچ کو پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا وہ سب نے دیکھا، کیا اب ہم مسلح ہوکر پریس کانفرنس کرنے آیا کریں گے؟ کیا یہ ملک کو ان ہی روایات پر چلائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…