ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

حقیقت میں عمران خان بازی ہار چکے، ان کیلئے اب مزید اقتدار کیساتھ چمٹا رہنا قوم کیلئے مزید خرابیوں کا باعث بنے گا،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہے کہ بکے ہوئے لوگوں کے ووٹوں کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر اب عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت باقی رہ گئی ہے، حقیقت میں عمران خان اس وقت بازی ہار چکے ہیں، انکے لئے اب مذید اقتدار کیساتھ چمٹا رھنا ملت کیلئے مذید خرابیوں کا

باعث بنے گا،یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز دارلعلوم تفہیم القران سکھر کی تقریب تکمیل بخاری و دستار فضیلت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سابق رکن قومی اسمبلی اسدا للہ بھٹو بھی انکے ہمراہ تھے انہوں نے کہا کہ ، وزیر اعظم کیجانب سے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا جانے کی بابت سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے مذید کہا کہ صدر پاکستان نے جو احکامات جاری کیئے اس میں انہوں نے ڈکلیئر کیا کہ عمران خان صاحب اعتماد کھو چکے ھیں، انکے پاس اکثریت نہیں ھے، اب عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے زریعے اکثریت حاصل کر لی تاھم انہوں نے قوم سے خطاب میں خود کہا ھے کہ 16 ممبران بک گئے ھیں انکی قیمت لگ چکی ھے، عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت اب باقی ھے ان ھی لوگوں کے ووٹ کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے، حقیقت میں عمران خان صاحب اس وقت بازی ہار چکے ھیں،لیاقت بلوچ نے کہا کہ ھم سمجھتے ھیں کہ پاکستان میں سیاست کو اب آئین کے تابع کیا جائے، آئندہ انتخابات کو شفاف و غیر جانبدارانہ بنایا جائے، سیاسی اور جمہوری قوتیں صرف اقتدار اور کرسی کی خاطر نہ اسٹیبلشمنٹ کی دھلیز پر جھکیں نہ ووٹ چوری کریں اور نہ ووٹوں کی قیمت لگائیں، جمہوریت اور ووٹ کی مقدس

قدروں کے تحفظ کیلئے سیاسی قوتیں جمہوری رویہ اختیار کریں، لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ، پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کا معاملہ ھے کہ وہ کیا فیصلے کرتے ہیں لانگ مارچ کس طرح سے کرتے ھیں. انکی جدوجہد کیسے آگے بڑھے اسکے لئے وہ خود جوابدہ ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…