جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

حقیقت میں عمران خان بازی ہار چکے، ان کیلئے اب مزید اقتدار کیساتھ چمٹا رہنا قوم کیلئے مزید خرابیوں کا باعث بنے گا،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہے کہ بکے ہوئے لوگوں کے ووٹوں کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر اب عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت باقی رہ گئی ہے، حقیقت میں عمران خان اس وقت بازی ہار چکے ہیں، انکے لئے اب مذید اقتدار کیساتھ چمٹا رھنا ملت کیلئے مذید خرابیوں کا

باعث بنے گا،یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز دارلعلوم تفہیم القران سکھر کی تقریب تکمیل بخاری و دستار فضیلت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سابق رکن قومی اسمبلی اسدا للہ بھٹو بھی انکے ہمراہ تھے انہوں نے کہا کہ ، وزیر اعظم کیجانب سے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا جانے کی بابت سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے مذید کہا کہ صدر پاکستان نے جو احکامات جاری کیئے اس میں انہوں نے ڈکلیئر کیا کہ عمران خان صاحب اعتماد کھو چکے ھیں، انکے پاس اکثریت نہیں ھے، اب عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے زریعے اکثریت حاصل کر لی تاھم انہوں نے قوم سے خطاب میں خود کہا ھے کہ 16 ممبران بک گئے ھیں انکی قیمت لگ چکی ھے، عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت اب باقی ھے ان ھی لوگوں کے ووٹ کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے، حقیقت میں عمران خان صاحب اس وقت بازی ہار چکے ھیں،لیاقت بلوچ نے کہا کہ ھم سمجھتے ھیں کہ پاکستان میں سیاست کو اب آئین کے تابع کیا جائے، آئندہ انتخابات کو شفاف و غیر جانبدارانہ بنایا جائے، سیاسی اور جمہوری قوتیں صرف اقتدار اور کرسی کی خاطر نہ اسٹیبلشمنٹ کی دھلیز پر جھکیں نہ ووٹ چوری کریں اور نہ ووٹوں کی قیمت لگائیں، جمہوریت اور ووٹ کی مقدس

قدروں کے تحفظ کیلئے سیاسی قوتیں جمہوری رویہ اختیار کریں، لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ، پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کا معاملہ ھے کہ وہ کیا فیصلے کرتے ہیں لانگ مارچ کس طرح سے کرتے ھیں. انکی جدوجہد کیسے آگے بڑھے اسکے لئے وہ خود جوابدہ ہیں ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…