بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اعتماد کا ووٹ، وزیراعظم نے ملک بھرکے ارکان قومی اسمبلی کو ٹاسک سونپ دیے

datetime 4  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اعتماد کے ووٹ کیلئے وزیراعظم عمران خان نے ملک بھرکے ارکان قومی اسمبلی کو ٹاسک سونپ دیے۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی اسلام آباد بلالیا۔وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کوپنجاب کے تمام ایم این ایز سے رابطوں کی ذمہ داری

سونپ دی۔عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو فون کیا، چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اتحادی ہیں، آئندہ بھی ساتھ چلیں گے۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو بھی ٹیلی فون کیا۔خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 6 مارچ کو دن سوا 12بجے طلب کر لیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے، وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 91 سیون کے تحت اعتماد کا ووٹ لیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ارکان نے اعتماد کا اظہار نہ کیا تو اپوزیشن میں چلا جائوں گا،اگر اقتدار میں نہ ہوں مجھے کوئی فکر نہیں ،جب تک پیسہ واپس نہیں کرینگے ،کسی کونہیں چھوڑونگا ، قوم کو باہر نکالونگا ،ملک عظیم تب بنے گا جب سارے ڈاکو جیلوں میں ہونگے ،الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا؟،سینیٹ انتخابات میں 30، 40 سال سے پیسہ چل رہا ہے، اب سارا ڈرامہ عبدالحفیظ شیخ کی نشست کیلئے کیا گیا؟،نہ بلیک میل ہونگا اور نہ ہی این آراو دونگا ۔ جمعرات کو سینٹ کے الیکشن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں

انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چھ سال پہلے تحریک انصاف نے سینٹ انتخابات میں حصہ لیا ، خیبر پختون خوا میں میری حکومت تھی ،تب اندازہ ہوا سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے ،یہ تیس چال سال سے پیسہ چلتا آرہا ہے ، جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ پیسہ استعمال کرتا ہے وہ ممبران پارلیمنٹ کو

خریدتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے حیرت ہوئی ہے کہ یہ جمہوریت کے ساتھ کیسا مذاق ہورہا ہے ، سینٹ کے اندر ملک کی لیڈر شپ آتی ہے اوران میں سے پاکستان سے لیڈر شپ آتی ہے ان میں سے وزیر ، وزیر اعظم بنتے ہیں ، مجھے تب سے حیرت ہوئی کہ ایک سینیٹر رشوت دیکر سینیٹر بن رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جو ضمیر بیچ رہے ہیں یہ کونسی جمہوریت ہے ؟ اس کے بعد میںنے تب سے مہم چلائی اور کہاکہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ ہونی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…