گنتی کے عمل کے دوران یوسف رضا گیلانی مسلسل پانی مانگتے رہے،گنتی کے دوران نوید قمر اور عطاء اللہ تارڑ کیا کام کرتے رہے

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  23:09

اسلام آباد(این این آئی)سابق وزیراعظم اور پاکستان ڈیموکریٹک الائنس(پی ڈی ایم)کے اسلام آباد کے جنرل نشست پر امیدوار سید یوسف رضا گیلانی گنتی کے عمل کے دوران قومی اسمبلی کے سارجنٹس سے پانی مانگتے رہے،قومی اسمبلی ہال کے تمام دروازوں کو گنتی کے عمل کے دوران مکمل لاک کرنے کی وجہ سے سید یوسفرضا گیلانی تک پانی پہنچانے میں مشکلات کا سامنا رہا، سارجنٹس نے بعد ازاں پریس گیلری کے ذریعے سید یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ تک پانی پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی اسلام آباد کی جنرل نشست اور ٹیکنوکریٹ کے انتخابات کے بعد گنتی کے عمل کے


دوران پی ٹی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور حکومتی اتحاد کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ مسلسل محوِ گفتگو رہے، دونوں امیدواروں کے الیکشن ایجنٹ ہر لمحہ دونوں امیدواروں کو صورتحال سے آگاہ کرتے رہے، پورے گنتی کے عمل کے دوران سید یوسف رضا گیلانی کے ایجنٹس سید نوید قمر اور عطاء اللہ تارڑ کے چہرے پر مسلسل مسکراہٹ رہی، ووٹوں کی گنتی میں برتری کے بعد حتمی اعلان سے قبل سید نوید قمر اور عطاء اللہ تارڑ نے سید یوسف رضا گیلانی کو مبارکباد دیںجس پر حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ نے بھی اپنی نشست سے اٹھ کر سید یوسف رضا گیلانی کو مبارکباد دی،ٹیکنوکریٹ نشست پر امیدواروں کے ووٹوں کی گنتی کے عمل کے دوران سید یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ دونوں اپنی نشستوں سے اٹھ کر قومی اسمبلی ہال میں آخری نشست تک ٹہلتے رہے، دونوں امیدوار تقریباً پندرہ سے بیس منٹ تک ٹہلتے رہے اور مسلسل محوِ گفتگو رہے۔ دریں اثناء یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے اعلان کے بعد پیپلزپارٹی اور دیگراپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے قومی اسمبلی کے احاطہ میں رضا گیلانی کے حق میں نعرے بازی کی، قومی اسمبلی سے باہر نکلنے والے پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید کو اپوزیشن کے رہنماؤں نے گھیر لیا، کارکنوں نے گو عمران گو کے نعرے بازی کی، سینیٹر فیصل جاوید کو اپنی گاڑی میں بیٹھنے کیلئے قومی اسمبلی کی مرکزی گیٹ تک دوڑتے ہوئے آنا پڑا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎