شہریار آفریدی نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیا، تہلکہ خیز دعویٰ

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  18:51

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ انتخابات میں حکومتی رکن شہریار آفریدی نے غلطی سے بیلٹ پیپر پر دستخط کر دئیے جس سے ان کا ووٹ ضائع ہو گیا،اسی پر ن لیگ کا بھی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج سینیٹ الیکشن میں حکومتی رکن کا ووٹ ضائع ہو گیا،شہریار آفریدی نے غلطی سے بیلٹ پیپر پر دستخط کر دئیے تھےجس سے ان کے ووٹ ضائع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔شہریار آفریدی کی درخواست کے باوجود انہیں نیا بیلٹ پیپر جاری نہیں کیا گیا۔اسی حوالے سے ت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے دعوی کیا ہے


کہ شہریار آفریدی نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیا کیونکہ وہ حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومہی اسمبلی شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کے خدشے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سینیٹ کے انتخاب میں وزیرِ مملکت شہر یار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے پر وزیرِ اعظم عمران خان ان سے سخت ناراض ہو گئے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے شہریار آفریدی پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سب کو طریقہ کار بتایا گیا تھا کہ ووٹ کیسے کاسٹ ہوتا ہے، آپ کو ایسی غلطی نہیں کرنا چاہیے تھی۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ کو نہیں پتہ کس طرح ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، آپ ایم این اے ہیں، اس طرح کی غلطی کیسے کر دی؟اس موقع پر شہر یار آفریدی وزیرِ اعظم عمران خان کو تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ مملکت شہریار آفریدی نے اپنے بیلٹ پیپر پر دستخط کر دیئے تھے جس کی وجہ سے ان کا ووٹ ضائع ہو گیا۔شہریار آفریدی کی جانب سے دوسرے بیلٹ پیپر کے لیے ریٹرننگ افسر کو درخواست بھی دی گئی تھی، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎