بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ اسمبلی کے فلور پر ڈرامہ پلانٹڈ ، پی ٹی آئی اراکین کے اغواء اور خریدو فروخت معاملہ ، پیپلز پارٹی کا دوٹو ک اعلان 

datetime 3  مارچ‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے اراکین کے اغوا ء اور خریدوفروخت کے الزا ما ت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطا بق ووٹ ڈالے کسی پر کوئی دباؤ نہیں۔ یہ بات انہوں نے سندھ اسمبلی میں میڈیا کا ر نر پر صحافیوں سے

گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی ہدایات دی ہیں کہ پورا عمل جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے جو جس کو ووٹ دینا چاہتا ہے یہ اراکین کی صوابدید ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سندھ اسمبلی کے فلور پر ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا یہ ڈرامہ کیا گیا ہے۔یہ پلانٹڈ تھا یا اس میں کوئی حقیقت ہے پیپلزپارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ان کو ظاہر ہی نہیں کیا جاتا وہ ویسے ہی خاموشی سے ووٹ ڈال دیتے ۔ہمیں ووٹ سے مطلب ہوتا تو ان کو سامنے لانے کا جواز ہی نہیں بنتا۔انہوں نے کہا کے کریم بخش گبول نے گزشتہ روز ایک ویڈیو بیان جاری کر کے اپنی جماعت سے ناراضگی کا اظہار کیا اس کے بعد دیگر دو اراکین محمد اسلم ابڑو اور شہریار شر نے بھی ویڈیو بیان میں اپنی پارٹی کی نامزدگیوں اور رویوں پر تحفظات ظاہر کیے۔پیپلز پارٹی کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں، آج یہ تینوں اراکین ایک ہی گاڑی میں ساتھ اسمبلی آئے ان کو کس نے دھمکی دی یہ وہ خو د ہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کریم بخش گبول کو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز زبردستی لے کر جانا چاہتے تھے جس پر پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز نے ان کو روکا لیکن جب گبو ل صاحب نے ہما ر ے ایم پی ایز کو کہا کے وہ ان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو ہمارے ایم پی ایز ہٹ گئے۔اگر دھونس دھمکی اور دھاندلی کی بات ہوتی تو ہمارے ایم پی ایز تو تعداد میں زیادہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں میں جس طرح کی پی ٹی آئی نے نا مز دگیا ں کی ہیں اس پر انکے سینئر ارا کین نے میڈیا پر ان کو ووٹ نہ دینے کے بیانا ت دیئے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا فیصلہ انہیں قبول ہے ہم ان کے پاس سیاسی پروسیس کے تحت سب کے سامنے گئے تھے ہم نے انہیں ایک پیشکش کی جو کہ جمہوری طریقے سے ہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی میں مشاورت کی بعد جو فیصلہ کیا ہمیں قبول ہے ۔وفاقی حکومت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اچھی بات ہے لیکن اگر وہ ہمارا ساتھ دیں تو زیادہ اچھی بات تھی ۔ایک اور سوا ل کے جوا ب میں انہو ں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان دو دن  ارا کین اسمبلی سے ملیں گے کیا وہ پہلے ارا کین اسمبلی سے نہیں ملتے تھے، ان کو اندازہ ہے کہ ان نامزدگیوں پر ان کے اپنے لوگوں کو اعتراضات ہیںاس لئے  انہو ں نے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ الیکشن کمیشن پر اعتماد ہو نے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تمام اداروں پر یقین ہے جو بھی کریں گے بہتر کریں گے، پی ٹی آئی والے ہر کسی پر الزامات لگاتے ہیں یہ باولے ہو گئے ہیں اور بو کھلا گئے ہیں، آج تو انہوں نے صحافیوں پر بھی الزامات لگا دیے ہیں ،وفاقی حکومت انتقام اور الزاما ت کی حکومت ہے ظاہر ہے اس کے اثرات نیچے تو آئیں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے ووٹ پر ڈیفیکشن نہیں ہوئی وزیراعظم اور مالیاتی بل پر اگر کوئی اپنی پارٹی سے انحراف کرتا ہے تو ڈیفیکشن بنتی ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دوں گا پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو سینیٹ کیلئے نامزد کیا ہے۔ ایسی نا مزدگی بتائیں جس پر اعتراض ہو۔ یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر اور تاج حیدر پیپلزپارٹی کے کارکن ہیں شہید بھٹو اور بی بی شہید کے ساتھی ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو کے جانثار ہیں ،ان کی پیپلز پارٹی سے دیرینہ وابستگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…