بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر ہائوس کے کمرے میں ٹکٹ تقسیم کئے اور ہم سے پوچھاتک نہیں ، فون بھی نہیں کیا اور دعوت بھی نہیں دی، پی ٹی آئی کے دو رہنمائوں نے بغاوت کردی

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) تحریک انصاف کے دو ارکان سندھ اسمبلی حلقہ پی ایس18گھوٹکی سے شہر یار خان مہر اور حلقہ پی ایس 100شرقی کراچی سے کریم بخش گبول نے سینیٹ انتخابات میں اپنے پارٹی امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا ہے اور کہاہے کہ آئین ان کو آزادانہ ووٹ کی اجازت دیتا ہے ۔ ہماری پارٹی کی سندھ پر توجہ

نہیں ہے اور ہم سے امیدواروں کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے ،پیسے دیکر ٹکٹ خریدنے والوں کو ووٹ نہیں دیں گے۔یہ اعلان انہوں نے دو الگ الگ ویڈیو بیان میں کئے ہیں ۔ پہلا بیان کریم بخش کا تھ، جس میں انہوں نے کہاہے کہ میرا تعلق تحریک انصاف سے تعلق ہے اور ہمیشہ رہے گا۔سندھ میں ناانصافیاں ہوئی ہیں اور سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا، ہماری حکومت ڈھائی سال میں عوام کیلئے کچھ نہ کرسکی اور ہم عوام کو ڈیلیور نہیں کرسکے۔ سینیٹ الیکشن میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا جن کے بارے میں سننے میں آرہا ہے کہ انہوں نے پیسے دیکر ٹکٹ خریدا ہے اور میں ایسے لوگوں کو کبھی بھی ووٹ نہیں دوں گا۔ان کا کہنا تھاکہ میں ان لوگوں سے مطمئن نہیں ہوں اور آئین نے مجھے حق دیا ہے جو ٹکٹ خرید کر آتے ہیں انہیں ووٹ نہ دوں اور میں جن سے مطمئن ہوں گا تو انہیں ہی ووٹ دوں گا۔ کچھ دیر بعد شہریار خان شہر نے بھی ویڈیو جاری کی اور کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے ہمیں اغواہ کرنے کی بات کی ،جو غلط ہے اور ہمیں کسی نے اغوا ہ نہیں کیا ہے اور کیوں کریں گے۔ ہم پارٹی سے ناراض ہیں اور شدید مایوس ہیں ۔ میں نے کئی بار خان صاحب کو کہاکہ سندھ کے لئے کچھ کرو اور ہمیں کچھ دو تاکہ لوگوں کے کام کرسکیں ، کیونکہ ہم نے لوگوں سے ووٹ لئے ہیں۔مگرخان صاحب

اورگورنر سندھ سمیت ہماری کسی نے سنی اور یہ کہتے ہیں کہ سندھ ہمارا نہیں ہے ۔اگر سندھ آپ کا نہیں ہے تو ہم آپ کے ساتھ کیسے رہیں گے؟ گورنر ہائوس کے کمرے میں ٹکٹ تقسیم کئے اور ہم سے پوچھاتک نہیں ، فون بھی نہیں کیا اور دعوت بھی نہیں دی۔ ہم پارٹی سے ناراض اور مایوس ہیں ، ہم ان پارٹی امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ہم اپنے گھر میں کسی نے ہمیں اغواہ نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…