بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نیب نے حمزہ شہباز کو موصول مشکوک ٹرانزیکشن اور انویسٹمنٹ کا پتہ لگالیا ، حیران کن دعویٰ

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو موصول مشکوک ٹرانزیکشن اور انویسٹمنٹ کا پتہ لگانے کا دعویٰ کردیا۔تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو

موصول مشکوک ٹرانزیکشن اور انویسٹمنٹ کا پتہ لگانے کا دعویٰ کردیا ہے۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حمزہ کو 23 مشکوک ٹرانزیکشنز سے 181 ملین سے زائد رقم وصول ہوئی تاہم حمزہ شہباز نے موصول ہونے والی رقم کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہبازشریف خاندان نے 2005 سے 2016 تک 14 بڑی کمپنیاں بنائیں اور کمپنیز سے بھاری مالی فوائد حاصل کرتے رہے، 14 کمپنیاں مشکوک ٹرانزیکشنز سے موصول رقم سے بنائی گئیں، حمزہ شہباز کے 14 کمپنیز میں کروڑوں کے شئیرز ہیں۔نیب کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کے ذریعے ناجائز اثاثے بنائے اور کرپشن کے مرتکب ہوئے۔خیال رہے حمزہ شہبازکی درخواست ضمانت پر23فروری کوسماعت مقررہے ، لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ درخواست پرسماعت کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…