پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

”ایم ٹی جے“برانڈ،کاروبار پیسے بنانے کیلئے نہیں کر رہا، ساری زندگی پیسہ نہیں بنایا، مولانا طارق جمیل کا بیان سامنے آ گیا

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)معروف مذہبی مبلغ مولانا طارق جمیل نے اپنے نام سے شروع کیے جانے والے کپڑوں کے برانڈ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برانڈ سے کاروبار کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کی آمدنی فاؤنڈیشن کے لیے خرچ کی جائے گی۔اپنے فیس بک پیج پر جاری وضاحتی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سال 2000

میں مجھے خیال آیا کہ کوئی ایسا عربی مدرسہ ہو جس میں تعلیم عربی زبان میں دی جائے جس کے بعد میں نے فیصل آباد میں مدرستہ حسنین کے نام سے مدرسے کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں یہ مدرسہ دس شاخوں میں تقسیم ہوگیا جہاں ہمارے شاگرد ہی پڑھا رہے ہیں اور وہاں عربی میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں، جبکہ دوست احباب کے تعاون سے مدرسے کا انتظام چل رہا تھا۔گزشتہ سال جب کورونا کی وبا ء پھیلی اور کاروبار ٹھپ ہوگئے تو میں نے ساتھیوں کے تعاون سے چلنے والے مدارس بند کر دئیے اور آن لائن کلاسز کا آغاز کیا لیکن مجھے یہ پریشانی ہوئی کہ لوگوں کے کاروبار تو ٹھپ ہوگئے ہیں تو مدرسے کے انتظامات کیسے چلیں گے۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب کورونا نے سب کو متاثر کیا تو میں نے کسی سے تعاون یا چندہ نہ مانگنے کا فیصلہ لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ مدرسے کے انتظامات کو کیسے چلایا جائے، اس وقت مجھے کاروبار کا خیال آیا جس کی آمدنی کو ہم مدرسے کے لیے خرچ کریں، اس کے بعد چند دوستوں نے مل کر اس کی کوشش کی اور سہیل موڈن نے اس میں اہم کردار ادا کیا اور ہمارے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایا، اس کے بعد ہم نے میرے نام سے ”ایم ٹی جے“برانڈ کے آغاز کا ارادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں کاروبار پیسے بنانے کے لیے نہیں کر رہا، میں نے ساری زندگی پیسہ نہیں

بنایا، ہمارا کاروباری ذہن ہی نہیں ہے اور ہم زمیندار لوگ ہیں اور جب سے تبلیغ میں لگا ہو کاروبار نہیں کیا بس 1984 میں ایک بار کپاس کی فصل کاشت کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس برانڈ سے کاروبار کا ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کی کمائی ایم ٹی جے فاؤنڈیشن میں لگاؤں گا جس کے ذریعے ہسکول اور ہسپتال بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے

کہا کہ برصغیر میں علما ء کا کاروبار یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے، نہ جانے یہ بات کہاں سے آگئی ہے، مولوی کا تصور لوگوں سے بھیک مانگنے والے کا بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ وضاحت اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے کسی کاروباری نیت یا کسی کے مقابلے میں یہ کام نہیں کیا، صرف اس نیت سے کام کر رہے ہیں کہ کم از کم میرے مدارس اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں اور میرے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا

رہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مولانا طارق جمیل کے حوالے سے یہ بات سامنے آرہی تھی کہ انہوں نے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے نام سے برانڈ قائم کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس برانڈ کے ذریعے شلوار قمیض اور کرتے فروخت کیے جائیں گے۔تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ مولانا طارق جمیل کو اب کاروبار کرنے کا خیال کیوں آیا اور برانڈ لانچ کرنے سے ان کے کیا مقاصد ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…