اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

”ایم ٹی جے“برانڈ،کاروبار پیسے بنانے کیلئے نہیں کر رہا، ساری زندگی پیسہ نہیں بنایا، مولانا طارق جمیل کا بیان سامنے آ گیا

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)معروف مذہبی مبلغ مولانا طارق جمیل نے اپنے نام سے شروع کیے جانے والے کپڑوں کے برانڈ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برانڈ سے کاروبار کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کی آمدنی فاؤنڈیشن کے لیے خرچ کی جائے گی۔اپنے فیس بک پیج پر جاری وضاحتی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سال 2000

میں مجھے خیال آیا کہ کوئی ایسا عربی مدرسہ ہو جس میں تعلیم عربی زبان میں دی جائے جس کے بعد میں نے فیصل آباد میں مدرستہ حسنین کے نام سے مدرسے کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں یہ مدرسہ دس شاخوں میں تقسیم ہوگیا جہاں ہمارے شاگرد ہی پڑھا رہے ہیں اور وہاں عربی میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں، جبکہ دوست احباب کے تعاون سے مدرسے کا انتظام چل رہا تھا۔گزشتہ سال جب کورونا کی وبا ء پھیلی اور کاروبار ٹھپ ہوگئے تو میں نے ساتھیوں کے تعاون سے چلنے والے مدارس بند کر دئیے اور آن لائن کلاسز کا آغاز کیا لیکن مجھے یہ پریشانی ہوئی کہ لوگوں کے کاروبار تو ٹھپ ہوگئے ہیں تو مدرسے کے انتظامات کیسے چلیں گے۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب کورونا نے سب کو متاثر کیا تو میں نے کسی سے تعاون یا چندہ نہ مانگنے کا فیصلہ لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ مدرسے کے انتظامات کو کیسے چلایا جائے، اس وقت مجھے کاروبار کا خیال آیا جس کی آمدنی کو ہم مدرسے کے لیے خرچ کریں، اس کے بعد چند دوستوں نے مل کر اس کی کوشش کی اور سہیل موڈن نے اس میں اہم کردار ادا کیا اور ہمارے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایا، اس کے بعد ہم نے میرے نام سے ”ایم ٹی جے“برانڈ کے آغاز کا ارادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں کاروبار پیسے بنانے کے لیے نہیں کر رہا، میں نے ساری زندگی پیسہ نہیں

بنایا، ہمارا کاروباری ذہن ہی نہیں ہے اور ہم زمیندار لوگ ہیں اور جب سے تبلیغ میں لگا ہو کاروبار نہیں کیا بس 1984 میں ایک بار کپاس کی فصل کاشت کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس برانڈ سے کاروبار کا ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کی کمائی ایم ٹی جے فاؤنڈیشن میں لگاؤں گا جس کے ذریعے ہسکول اور ہسپتال بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے

کہا کہ برصغیر میں علما ء کا کاروبار یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے، نہ جانے یہ بات کہاں سے آگئی ہے، مولوی کا تصور لوگوں سے بھیک مانگنے والے کا بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ وضاحت اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے کسی کاروباری نیت یا کسی کے مقابلے میں یہ کام نہیں کیا، صرف اس نیت سے کام کر رہے ہیں کہ کم از کم میرے مدارس اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں اور میرے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا

رہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مولانا طارق جمیل کے حوالے سے یہ بات سامنے آرہی تھی کہ انہوں نے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے نام سے برانڈ قائم کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس برانڈ کے ذریعے شلوار قمیض اور کرتے فروخت کیے جائیں گے۔تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ مولانا طارق جمیل کو اب کاروبار کرنے کا خیال کیوں آیا اور برانڈ لانچ کرنے سے ان کے کیا مقاصد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…