اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

”ایم ٹی جے“برانڈ،کاروبار پیسے بنانے کیلئے نہیں کر رہا، ساری زندگی پیسہ نہیں بنایا، مولانا طارق جمیل کا بیان سامنے آ گیا

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)معروف مذہبی مبلغ مولانا طارق جمیل نے اپنے نام سے شروع کیے جانے والے کپڑوں کے برانڈ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برانڈ سے کاروبار کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کی آمدنی فاؤنڈیشن کے لیے خرچ کی جائے گی۔اپنے فیس بک پیج پر جاری وضاحتی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سال 2000

میں مجھے خیال آیا کہ کوئی ایسا عربی مدرسہ ہو جس میں تعلیم عربی زبان میں دی جائے جس کے بعد میں نے فیصل آباد میں مدرستہ حسنین کے نام سے مدرسے کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں یہ مدرسہ دس شاخوں میں تقسیم ہوگیا جہاں ہمارے شاگرد ہی پڑھا رہے ہیں اور وہاں عربی میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں، جبکہ دوست احباب کے تعاون سے مدرسے کا انتظام چل رہا تھا۔گزشتہ سال جب کورونا کی وبا ء پھیلی اور کاروبار ٹھپ ہوگئے تو میں نے ساتھیوں کے تعاون سے چلنے والے مدارس بند کر دئیے اور آن لائن کلاسز کا آغاز کیا لیکن مجھے یہ پریشانی ہوئی کہ لوگوں کے کاروبار تو ٹھپ ہوگئے ہیں تو مدرسے کے انتظامات کیسے چلیں گے۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب کورونا نے سب کو متاثر کیا تو میں نے کسی سے تعاون یا چندہ نہ مانگنے کا فیصلہ لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ مدرسے کے انتظامات کو کیسے چلایا جائے، اس وقت مجھے کاروبار کا خیال آیا جس کی آمدنی کو ہم مدرسے کے لیے خرچ کریں، اس کے بعد چند دوستوں نے مل کر اس کی کوشش کی اور سہیل موڈن نے اس میں اہم کردار ادا کیا اور ہمارے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایا، اس کے بعد ہم نے میرے نام سے ”ایم ٹی جے“برانڈ کے آغاز کا ارادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں کاروبار پیسے بنانے کے لیے نہیں کر رہا، میں نے ساری زندگی پیسہ نہیں

بنایا، ہمارا کاروباری ذہن ہی نہیں ہے اور ہم زمیندار لوگ ہیں اور جب سے تبلیغ میں لگا ہو کاروبار نہیں کیا بس 1984 میں ایک بار کپاس کی فصل کاشت کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس برانڈ سے کاروبار کا ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کی کمائی ایم ٹی جے فاؤنڈیشن میں لگاؤں گا جس کے ذریعے ہسکول اور ہسپتال بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے

کہا کہ برصغیر میں علما ء کا کاروبار یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے، نہ جانے یہ بات کہاں سے آگئی ہے، مولوی کا تصور لوگوں سے بھیک مانگنے والے کا بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ وضاحت اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے کسی کاروباری نیت یا کسی کے مقابلے میں یہ کام نہیں کیا، صرف اس نیت سے کام کر رہے ہیں کہ کم از کم میرے مدارس اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں اور میرے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا

رہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مولانا طارق جمیل کے حوالے سے یہ بات سامنے آرہی تھی کہ انہوں نے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے نام سے برانڈ قائم کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس برانڈ کے ذریعے شلوار قمیض اور کرتے فروخت کیے جائیں گے۔تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ مولانا طارق جمیل کو اب کاروبار کرنے کا خیال کیوں آیا اور برانڈ لانچ کرنے سے ان کے کیا مقاصد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…