پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

وراثتی سرٹیفکیٹ اب عدالت جاری نہیں کرے گی، فوت ہونے والے فرد کے ورثاء اب سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے نادرا آفس سے رابطہ کریں، آرڈیننس جاری کر دیا گیا

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

لاہور(آن لائن ) حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وراثتی سرٹیفکیٹ عدالت جاری نہیں کرے گی،فوت شدہ فرد کے ورثا اب سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے عدالت کی بجائے نادرا آفس سے رجوع کریں گے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر پنجاب نے آرڈیننس جاری کر دیا، جس کے مطابق فوت ہونے والے فرد کے ورثا

اب سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے عدالت کی بجائے نادرا آفس سے رجوع کریں- بتایا گیا ہے کہ گورنر پنجاب نے تیرہ صفحات پر مشتمل وراثتی سرٹیفیکیٹ کے حوالے سے جو آرڈیننس جاری کیا ہے اس کے مطابق اب عدالت کے بجائے نادرا وراثتی سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا، خیال رہے کہ مذکورہ آرڈیننس قانونی ماہرین میں موضوع بحث بنا رہا۔ وراثتی سرٹیفکیٹ صدارتی آرڈیننس 2021 گورنر پنجاب نے فیڈرل گورنمنٹ کی ہدایت پر جاری کیا ہے۔ آرڈیننس کیمطابق اگر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کے ورثا اب سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے عدالت کی بجائے نادرا آفس سے رجوع کریں گے۔ نادرا کی طرف سے جاری سرٹیفکیٹ کو عدالتی سرٹیفکیٹ کا درجہ حاصل ہو گا۔ حکومت نے یہ فیصلہ عوام کو کئی کئی ماہ عدالتوں کے چکر لگانے سے بچانے اور عدالتوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے کیا ہے۔ آرڈیننس کے مطابق اگر نادرا کسی شخص کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا تو ورثا عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، مزید بتایا گیا ہے کہ کسی مرنے والے کی جائیداد اگر کسی دوسرے شہر میں ہو گی تو وارث کو اسی شہر کے نادرا آفس سے رجوع کرنا ہو گا۔ اگر نادرا کسی کیس کا فیصلہ نہیں کرتا اور معاملہ پیچیدہ ہو تو اس معاملے کو عدالت دیکھ سکتی ہے۔ وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے نادرا اپنے آفس میں یونٹ بنانے کا پابند

ہوگا۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نااہلی شہریوں سے لائسنس اور فیسیں اکٹھے کرنے والی میٹروپولیٹن کارپوریشن نادرا کی نادہندہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن نے سرٹیفکیٹس پیپرز کی مد میں نادار کی ایک کروڑ 50 لاکھ کی ادائیگی روکی تو نادارنے پیپرز کا اجراء بند کردیا۔ شہر کے 107 فیلڈ آفسز میں برتھ، ڈیتھ،

میرج اور طلاق سرٹیفکیٹس کا اجراء ٹھپ ہوگیا۔ خیال رہے کہ نادرا نے ایم سی ایل کے فیلڈ آفسز کو سرٹیفکیٹس پیپرز کی سپلائی روک دی ہے- سرٹیفکیٹس پیپرز ختم ہونے فیلڈ آفسز کے عملے تنگ آکر دفاتر ہی بند کردئیے۔ ایم سی ایل کے فیلڈ آفسز میں مطلوبہ سرٹیفکیٹس کے حصول کی ہزاروں درخواستیں التواء کا شکار ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…