بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کروڑوں روپے مالیت کے ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ثابت،کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ کو سزا و کروڑوں کا جرمانہ

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

کوئٹہ( این این آئی)احتساب عدالت کوئٹہ نے کروڑوں روپے مالیت کے ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ثابت ہونے پر کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ طلعت اسحاق کو پانچ سال قید بامشقت ، ساڑھے چار کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی جبکہ ملزم کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں بنائی گئی کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں، گاڑیوں

سمیت تمام اثاثہ جات کو سرکاری تحویل میں جمع کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کوئٹہ کے جج منور احمد شاہوانی نے کی جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر ضمیر چھلگری نے پیروی کی۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ میں گریڈ 16 کا ملازم طلعت اسحاق نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی DHA لاہو ر اور کوئٹہ میں کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوںپلاٹس،مہنگی سپورٹس ودیگرپرتعیش گاڑیوںسمیت کئی قیمتی اثاثہ جات بنائے۔ ملزم سے دوران تفتیش کروڑوں روپے مالیت کا خالص سونا اور جولری اور لاکھوں روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی. علاوہ ازیں نیب نے ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں رکھے 3 کروڑ 50 ،لاکھ. کا سرا غ لگاکر بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دئے گئے ۔نیب بلوچستان کی انویسٹی گیشن ٹیم نے ملزم کے بناے گئے اثاثوں کا کامیابی سے سرا حاصل کر کے ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا جسے بعد میں احتساب عدالت نے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھاواضح رہے کہ ملزم نے اعتراف جرم کر تے ہوے پلی بارگین کی درخواست بھی دی تھی جسے ڑی جی نیب بلوچستان نے مسترد کر دیا تھا۔اثاثہ جات کیس میں ملزم اور استغاثہ کو سننے کے بعد نیب کی تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزم احتساب عدالت کوئٹہ نے قید وجرمانے کی سزا

سنا دی ہے۔معزز عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزم کی جانب سے غیر قانونی بناے گئے ڈی ایچ اے لاہور کے دو بنگلے، دو فلیٹ، 4 پلاٹس، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کا ایک بنگلہ، کوئٹہ میں دو بنگلے، دو پلاٹ،بینک اکاونٹس میں موجود 20 ملین روپے، ڈیڈھ کروڑ روپے کے سیونگ سرٹیفیکیٹ، 290 تولہ سونا، 26۔4 ملین روپے کی فارن کرنسی، 14 ملین روپے کی جیولری، مرسیڈیز سمیت چار قیمتی گاڑیاں سرکاری تحویل میں دے دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…