منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا میں آف شور کمپنی کس کی ہے ؟ جسٹس ڈیپارٹمنٹ اور ایف بی آئی کس چیز کی تحقیقات کر رہے ہیں ، فارن فنڈنگ کیس بارے حامد میر کے بڑے انکشافات

datetime 20  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ہم نے یہ سنا کہ پی ٹی آئی نےکہا ہے کہ فارن کنٹریز سے فنڈز فارن ایجنٹ سے ذریعے کیے اور اب انہیں فارغ کر دیا گیا ہے جس کی تحقیقات بھی جارہی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جس فارن ایکٹ کے تحت فنڈز حاصل کیے جاتے ہیں اسے امریکا میں فارا کہا جاتا ہے ۔ فارا ایکٹ کے تحت میرے پاس رجسٹریشن ہے جس کے مطابق

پاکستان تحریک انصاف نے امریکا میں فنڈز حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کے بعد کچھ اکائونٹس کھولے ، اس حوالے سے وہاں پر صحافی فاروق مرزا نے تحقیقات کی جس کی تمام ڈاکومنٹس موجود ہیں ، انہوں نے اپنی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے درجنوں ایجنٹس کو مختلف عہدوں پر نوٹیفکیشن کے تحت تعینات کیا اور اکثر یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ (فارا)قوانین کیخلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک انصاف پراجیکٹس کیلئے فارن فنڈنگ میں ملوث رہے ، امریکا میں اگر کوئی سیاسی جماعت اگر کوئی تعیناتی کرتی ہے تو دس دنوں کے اندریو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس(فارا)سے رجسٹر کروانا ہوتا ہے بصورت دیگر اسے حراست اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ لیکن ایسا ہوا کہ تحریک انصاف کے نام پر جو رجسٹریشن ہوئی جو اکائونٹ بنائے گئے ان میں نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کیلئے کثیر رقوم جمع کی گئیں ہیں اس پر (فارا)کی جانب سے انکوائر ی بھی کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے کچھ نام لکھ لیے ہیں ، بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک وکیل کر لیا ہے جو یہ کیس وہاں پر لڑے رہا ہے ۔حامد میر کا مزید کہنا تھاکہ اس کے علاوہ ایک آف شور کمپنی اقدار ہے اس کے بارے میں بھی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اس حوالے سے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے کہیں سے بھی کوئی بھی فنڈز جمع کیے ہیں تو کبھی قوانین سے باہر جا کر کوئی کام نہیں کیا بلکہ ہر جگہ قوانین کے مطابق چل کر فنڈز اکٹھے کیے گئے ہیں ۔ اگر کوئی انکوائری کر رہا ہے اس سے تو کسی پر جرم ثابت نہیں ہو سکتا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…