ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

براڈ شیٹ واضح کرے کہ کس کے کہنے پر تحقیقات روکی گئیں بار بار کیوں انکشافات ہو رہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان نے براڈ شیٹ کیلئے اہم پیغام جاری کر دیا

datetime 13  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اشرافیہ کی کرپشن پاکستان کی ترقی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے، یہ اشرافیہ استحصال کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی،پہلے پاناما پیپرز اور پھر براڈ شیٹ نے ہماری حکمران اشرافیہ کی کرپشن اور من لانڈرنگ کا پردہ چاک کیا،اشرافیہ نے این آر او کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دولت کو تحفظ دیا اور عوام کو خسارے میں رکھا۔

اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں براڈ شیٹ مکمل شفافیت سےتحقیقات کرے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاناما پیپرز نے ہمارے حکمران اشرافیہ کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کو پہلے ہی بے نقاب کیا اور اب براڈشیٹ نے ایک بارپھر ان کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا پردہ بڑے پیمانے پرچاک کیا،کرپشن کے یہ انکشافات ابھی صرف آغاز ہیں۔یہ اشرافیہ”استحصال” کے کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔یہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو لوٹ مارکرتے ہیں، اس صورتحال میں پاکستانی عوام سب سے زیادہ ہارے ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کیوں بار بار یہ انکشافات ہورہے ہیں،یہی بات میں کرپشن کے خلاف اپنی 24 سالہ جدوجہد میں کرتا آرہا ہوں اور یہ کرپشن پاکستان کی ترقی کے لئے خطرہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اشرافیہ نے بعد میں این آر او کا سہارالیا، این آر دینے سے نہ صرف قوم کی لوٹی دولت بلکہ اس کی واپسی کے لئے عوام کے ٹیکس سے دیئے گئے پیسے بھی ضائع ہوئے،این آراو کی وجہ سے لوٹی دولت وصول نہ کی جاسکی اورضائع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ جاننا چاہتے ہیں براڈشیٹ کو مزید تحقیقات سے کس نے روکا۔وزیراعظم نے کہا کہ براڈ شیٹ واضح کرے کہ کس کے کہنے پر تحقیقات روکی گئیں،اشرافیہ بیرون ملک اثاثوں کے تحفظ کے لئے منی لانڈرنگ کرتی ہے تاکہ ان کے خلاف ملک میں کارروائی بھی نہ ہوسکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…