منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کے اختیارات محدود ہوگئے کابینہ کمیٹی اجلاسوں میں اب کیسے شرکت کر سکیں گے؟بڑی شرط عائد

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کے اختیارات محدود ہوگئے ہیں۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کابینہ کمیٹی اجلاسوں میں مشیروں اور معاونین خصوصی کی شرکت

دعوت نامے سے مشروط کردی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مذکورہ حکام نا ہی کسی کابینہ کمیٹی کے سربراہ بن سکتے ہیں اور نا ہی رکن بن سکتے ہیں۔ جب کہ جس وزارت اور ڈویژن میں ان کی تقرری کی گئی ہے، وہاں بھی ان کا کوئی کردار، ذمہ داری یا ڈیوٹی نہیں ہوگی۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نو کی ہے اور مشیروں اور معاونین کا کردار کم کردیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں کوئی بھی مشیر یا معاون خصوصی ، کابینہ کمیٹی، وزارت یا ڈویژن کا سربراہ نہیں ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات (سی سی آئی آر) کا سربراہ اب وفاقی وزیرتعلیم کو بنایا گیا ہے۔ جب کہ وزیر دفاع اور وزیر فوڈ سیکورٹی اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین جو کہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے، وہ اب خصوصی دعوت نامے پر ہی اس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اینڈ پٹرولیم کے حوالے سے معاونین خصوصی ،

سیکرٹریز اسٹیبلشمنٹ، فنانس، قانون و انصاف اور کابینہ و پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی کریں گے۔ اسی طرز پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی بھی تشکیل نو کی گئی ہے۔ اب وزیر منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات کو اس کا چیئرمین بنادیا گیا ہے۔جب کہ وزیر خزانہ

اور ریونیو، صنعت و پیداوار، اطلاعات و نشریات، داخل بحری امور، پاور اور ریلویز اس کے ارکان ہیں۔ معاون خصوصی برائے پاور، پٹرولیم اور ریونیو، مشیر کامرس اینڈ انویسٹمنٹ بھی سی سی او ای اجلاسوں میں خصوصی دعوت نامے پر ہی شرکت کرسکیں گے۔ دریں اثنا وزیراعظم نے ایک اور فورم تشکیل دیا ہے جو کہ کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز(سی سی ایل سی) ہے۔ اس کا سربراہ وزیر قانون و انصاف کو بنایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…