پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اصل اختلاف کیا ہے ؟پی پی نے ایسی کیا شرائط رکھ دیں کہ ن لیگ نے منہ پھر لیا

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اورن لیگ کے مابین اس وقت جو اختلاف استعفوں کے معاملے پر چل رہا ہے وہ اختلاف یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ان کیلئے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہی ہونا چاہیے ، اگر کل حکومت ختم ہو جاتی ہے تو بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم نہیں بن سکتے ،

ان کی تیاری نہیں ، ایک نہیں ان کے کافی مسئلے ہیں ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اس لیے پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسی کوئی گیند نہیں کرائیں گے جس سے عمران خان آئوٹ ہو جائے اور سارا فائدہ مسلم لیگ ن کے پلڑے میں چلا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مابین مذاکرات ہوئے ، جس میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی ملاقاتیں ہوئیں ، نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطہ قائم ہوا ۔ راناعظیم نے اندر کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب ن لیگ سے یہ کہہ رہی ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں ہم وہ کرنے کیلئے تیار ہیں ، لیکن ہمارے ساتھ شرط طے کریں کہ چیئرمین سینٹ کیلئے ووٹ وہ ن لیگ ہمیں دے گی جبکہ باقی اتحادی جماعتیں بھی ووٹ ہمیں دیں گی ، سینٹ کا چیئرمین بنانے میں آپ ہماری مدد کریں گے جبکہ ن لیگ پی پی کی اس بات پر کسی بھی طور پرراضی نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کا کہنا ہے کہ چلیں ہم آپ کیساتھ یہ سودا کر لیتے ہیں لیکن آپ بھی ہمارے ساتھ یہ طے کریں کہ اگلے الیکشن میں وزارت عظمیٰ ہمیں دیں گے ، لیکن پی پی بھی اس پر تیار نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ اگلی باری بھی 23کے بعد وہ بھی ہماری ہونی چاہیے اور چیئرمین سینٹ بھی ہمارا ہونا چاہیے ۔ یہ وہ اختلافات ہیں جن کی وجہ سے دونوں پارٹیوں میں پھڈا پڑا ہوا ہے ۔ ان صورتحال کو دیکھتےہوئے پی پی کبھی بھی سندھ حکومت کے خاتمے کا اعلان نہیں کرے گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تحریک سے کچھ نہیں ہونے والا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اکیلی نکلے گی ان کیساتھ چند لوگ ہونگے وہ ایک طرف نکل جائیں گے جبکہ اس معاملے میں ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…