پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختونخواکے13 سرکاری کالجز میں 100 سے بھی کم طلبازیر تعلیم ایک طالبعلم پر نجی تعلیمی اداروں سے بھی زیادہ سالانہ اخراجات کا انکشاف

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا میں کم ازکم 13 سرکاری کالجز میں 100 سے کم طلبازیر تعلیم ہیں جس کے باعث ہرطالب علم پر نجی تعلیمی اداروں سے بھی کئی گنا زیادہ رقم خرچ کی جارہی ہے۔روزنامہ جنگ میں ارشد عزیز ملک کی شائع خبر کے مطابق گورنمنٹ

ڈگری کالج غلجو اورکزئی اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوٹھا صوابی میں ہر طالب علم پر سالانہ اخراجات بالترتیب 1350733 اور800764 روپے اٹھ رہے ہیں ۔کئی تعلیمی اداروں میں طلبا کی تعداد کم اور سٹاف کی زیادہ ہے۔صوبے میں چار کالجز غیرفعال ہیں جن میں ایک بھی بچہ زیر تعلیم نہیںتاہم کالجز کے لئے فنڈز جاری کئے جارہے ہیں ۔ چھ تعلیمی ادارے صوبے کے پرانے اضلاع جبکہ سات ضم شدہ اضلاع میں واقع ہیں ۔صوبے میں موجود 13کالجز میں مجموعی طورپر 527 طلبا پڑھ رہے ہیں جبکہ ان کالجز کا مجموعی سالانہ بجٹ 32کروڑ 91لاکھ 60ہزار روپے ہے یوں خیبرپختونخوا حکومت13 کالجز میں ہر طالب علم پر اوسطاً سالانہ 6لاکھ 24ہزار 592روپے خرچ کررہی ہے ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے بتایا کہ صوبائی حکومت کو اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہے بعض کالجز میں بچوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور ان کالجز پر بھاری فنڈز خرچ ہورہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ کی ہدایات پر کالجز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے تاکہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے جس سے بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو ۔ صوبے میں بعض کالجز میں طلبا کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے جبکہ بعض کالجز میں طلبا کی تعداد انتہائی کم ہے ۔حکومت کے پاس دو ہی حل موجود ہیں

پہلا سرکاری کالجز میں طلبا کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی جائے اور بصورت دیگردوسرے آپشن کے طورپر سرکاری کالجز کو آئوٹ سورس کرکے نجی شعبے کے حوالے کیا جائے کیونکہ چند طلبا کے لئے سالانہ کروڑوں روپے خرچ نہیں کئے جاسکتے ۔اطلاعات تک رسائی کے

قانون 2013 کے ذریعہ حاصل کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ، گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) غلجو اورکزئی ضلع میں 30طلبا داخل ہیں اور کالج کا بجٹ 40522000 روپے ہے۔ہر طالب علم پر1350733 روپے خرچ ہورہے ہیں جو ایک نجی میڈیکل کالج کی فیس سے

بھی زیادہ ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج لدھا جنوبی وزیرستان میں 40طلبا ہیں جن کا سالانہ بجٹ 32217000 روپے ہے۔ ہر طالب علم پر اخراجات 805425 روپے ہیں۔ تیسرا مہنگا ترین کالج گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوٹھا صوابی میں صرف 17طالبات ہیں جس کا سالانہ بجٹ 13613000 روپے ہے۔

فی طالبہ کی پڑھائی پر سالانہ لاگت 800764روپے ہے۔گورنمنٹ ہوم اکنامکس کالج نوشہرہ میں 61 طالبات زیر تعلیم ہیں جس کا بجٹ 42326000 ہے اس کالج کی ہر طالبہ پر قومی خزانے سے سالانہ 693868روپے اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج درہ زندہ ایف آر ڈی آئی خان میں صرف 61 طلبا زیر تعلیم ہیں کالج کا سالانہ بجٹ 40571000روپے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…