منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات کے پرچے مبینہ طور پر آئوٹ ، امیدواروں نے پی پی ایس سی دفتر کا گھیرائو کرلیا، شدید احتجاج ، چیئرمین کا موقف بھی آگیا

datetime 28  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مختلف ملازمتوں کے تحریری امتحانات کے سوالیہ پرچوں کا قبل از وقت آئوٹ ہونے کی وجہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر سے آئے ہوئے ہزاروں امیدوار سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے باہر

احتجاج کرتے ہوئے سیکرٹری اور چیئرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں بھرتیوں سے متعلق حالیہ امتحان میں ضلع جھنگ کے تین رہائشیوں کو کامیاب فہرست میں شامل کرلیا۔ جس کی انکوائری کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تینوں افراد سیکرٹری پبلک سروس کمیشن پنجاب کے قریبی رشتہ دار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیونکہ چیئرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ریٹائرمنٹ میں تھوڑے دن باقی ہے اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل مبینہ طور پر ان قسم کے واقعات کے ذریعے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ملازمتوں سے متعلقہ تحریری امتحانات کے سوالیہ پرچوں کو قبل از وقت آئوٹ کرنا جن مفادات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرچے آئوٹ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور حق داروں کو ان کا حق دیا جائے۔ جبکہ دوسری طرف چیئرمین پنجاب پبلک سروس

کمیشن لیفٹیننٹ جنرل (ر) مقصود احمد کا کہنا ہے کہ امیدوراوں کا کمیشن کے خلاف احتجاج ناقابل قبول ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے نتائج کی تیاری میں کمیشن کے مختلف شعبہ جات کے نیچے سے لیکر اوپر تک کے افسران اور ملازمین شامل ہوتے ہیں

جبکہ نتائج کو جدید مشینری کے ذریعے فوری طور پر اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو پنجاب حکومت کی جانب سے 1 لاکھ 70 ہزار لیکچرارز کی آسامیاں فراہم کی گئیں۔ جن پر میرٹ کے مطابق بھرتی کی گئی۔ اس لئے شہریوں کے سیکرٹری اور چیئرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں صرف سیکرٹری اور چیئرمین کو نتائج تیار کرنے کا اختیار نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…