بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ، اتحاد جماعت نے حکومت سے علیحدگی اور سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے دی

datetime 24  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ابھی ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ہمارے پاس حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی آپشن ہے، اب سڑکوں پر عوام کا مقدمہ رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔جمعرات کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کی جو ہم امید لگا کر بیٹھے تھے وہ نظر نہیں آئی، اگر جمہوریت کے ثمرات سے پاکستان کے عوام مستفید نہ ہوں وہ بے معنی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کاہ کہ جو معاشرہ مردم شماری ہی صحیح نہ کر سکے وہ مردم شناسی کیسے کرسکتا ہے، ہر مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی 25 فیصد کم دکھائی گئی، اس حوالے سے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے، ہم مردم شماری سے قبل ہی عدالتوں میں چلے گئے تھے اور ہم نے حکومت میں اسی بنیادی نقطے پر شمولیت اختیار کی تاہم وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کے خدشات کے باوجود مردم شماری کو منظور کرلیا۔رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہم سے کیے گئے ایک وعدے پر بھی عمل نہیں کیا، ہمیں بتایا جائے ہم حکومت میں کیوں ہیں، بتایا جائے کیا ہم منتخب ایوانوں سے بھی باہر آجائیں ؟ کیا ہر حق کیلئے فیصلہ سڑکوں پر ہوگا؟ وزیر اعظم کے فیصلے کے بعد سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ مایوس ہیں، ایسا نہ ہو سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ سیاسی لاتعلقی کا اظہار کرلیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے ایک مطالبے پر بھی عمل نہیں ہورہا، یہ ہمارے مطالبے نہیں حکومت کے وعدے ہیں، دھاندلی شدہ مردم شماری کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، ابھی ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہمارے پاس حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی آپشن ہے، اب سڑکوں پر عوام کا

مقدمہ رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔کنوینئر ایم کیوایم نے کہا کہ حکومت میں رہ کر احتجاج کا آپشن استعمال نہیں ہوسکتا، مردم شماری منظوری کے بعد ہمارے بعد آپشن ختم ہوگیا ہے، یہ ہمارے لیے زندگی اور موت سے مسئلے سے بڑھ کر ہے، جب مردم شماری ٹھیک نہیں ہوئی تو ہمارے حقوق کا کیا خیال رکھا جائیگا، مردم شماری نے سندھو دیش پر مہر لگا دی ہے، سندھو دیش بن چکا ہے بس اعلان باقی ہے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…