جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران صاحب اور شہزاد اکبر کی دماغی حالت گھٹیا ہے اس لئے کبھی صحت اورکبھی موت پر سیاست کررہے ہیں، ن لیگ کا شدید ردعمل

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران صاحب اور شہزاد اکبر کی دماغی حالت گھٹیا ہے اس لئے کبھی صحت اورکبھی کسی کی والدہ کی موت پر سیاست کررہے ہیں ، حکمرانوں

کے گھٹیا پن کا ثبوت یہ ہے کہ والدہ کی وفات کے چھ دن بعد شام چار بجکر پندرہ منٹ پر شہبازشریف اور حمزہ شہباز کورہا کیاگیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکمرانوں میں کوئی انسانیت یا شرم ہوتی تو وفات کے دن ہی شہبازشریف اورحمزہ شہبازکو رہا کیاجاتا ،14 دن کی درخواست دی گئی تھی لیکن عمران صاحب کے حکم پر پانچ دن کے پیرول کی اجازت دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پیرول حکومت کا کوئی احسان نہیں بلکہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کا قانونی حق تھا، گھٹیا پن، بے شرمی ، بے حسی اور چھوٹے پن کا مظاہرہ نہ ہوتا تو شہبازشریف کی چودہ دن کے پیرول کی درخواست منظور کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نالائق، نااہل، آٹا چینی چور اور کرپشن کے بے تاج بادشاہ تو ہیں ہی لیکن قوم نے آپ کے گھٹیا اور چھوٹے پن کی انتہابھی جان لی ،ووٹ چور صرف گھٹیا ہی نہیں بلکہ ظالم اور بے حس بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…