جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

حکومت نے سٹیل ملز کے ساڑھے 4 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن) نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی نے کہا ہے کہ اسٹیل مل کے ساڑھے چار ہزار ملازمین کی جبری برطرفیاں ظلم کی انتہا ہے۔ ایک کروڑ نوکری دینے کے دعویدار غریب عوام کو بے روزگاری بھوک اور غربت کی دلدل میں دکھیلنا چاہتے ہیں۔نیشنل لیبر فیڈریشن اسٹیل مل کے محنت کشوں کی جبری برطرفیاں کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی اور

پوری قوت کے ساتھ ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔یہ بات نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی نے اسٹیل مل کی انتظامیہ کی جانب سے ساڑھے چار ہزار ملازمین کی یک جنبش قلم جبری برطرفیوں پر اپنے مذمتی بیان میں کہی۔شمس الرحمان سواتی نے کہا کہ اسٹیل مل ملک وقوم کا قومی ادارہ ہے اور اس کو اسٹیل مل کے محنت کشوں نے نہیں بلکہ کرپٹ حکمرانو،نوکر شاہی اور نااہل انتظامیہ نے تباہ وبرباد کیا۔عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر نے متعدد مرتبہ اسٹیل مل کو چلائے جانے اور اس میں پیداواری نظام شروع کئے جانے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل مل قومی اثاثہ ہے اور یہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ فوری طور پر اس قومی ادارے کی تباہی حالی اور 4500محنت کشوں کی جبری برطرفیوں کا فوری طور پر نوٹس لیں اور اسٹیل مل کو تباہ وبرباد ہونے سے بچایا جائے۔انھوں نے اسٹیل مل کے محنت کشوں کو بھی یقین دہانی کروائی کہ نیشنل لیبر فیڈریشن اسٹیل مل کے محنت کشوں کے ساتھ ہے اورہم کسی بھی قیمت پر اسٹیل مل کے محنت کشوں کے ساتھ ظلم وزیادتی نہیں ہونے دینگے اور کراچی سے لیکر خیبر تک اس ظلم کے خلاف پوری قوت کے ساتھ احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے پاکستان اسٹیل لیبر یونین پاسلو کے ذمہ داران کو بھی تاکید فرمائی کہ وہ برطرف ملازمین سے فوری طور پر رابطہ کریں

اور انہیں حوصلہ فراہم کریں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان سٹیل ملز کے چار ہزار 544 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے، ترجمان اسٹیل ملز کا کہنا ہے کہ جن ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے ان میں پے گروپ2، 3 اور 4 کے ملازمین کے علاوہ جونیئر آفیسرز، اسسٹنٹ منیجرز، ڈویژنل منیجر، ڈی سی ای، ڈی جی ایم اور منیجرز بھی شامل ہیں، برطرفی کے خطوط بذریعہ ڈاک ملازمین کو بھیج دیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…