اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی ماہی گیروں نے سمندرمیں ایک ہی مقام پر100 ٹن مچھلی شکارکرلی لیکن یہ مارکیٹ میں کتنے میں بکی ؟ماہی گیروں کے وارے نیارے ہوگئے

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ماہی گیروں نے سمندرمیں ایک ہی مقام پر100 ٹن مچھلی شکارکرلی جو بازار میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔ترجمان ڈبیلوڈبیلوایف کے مطابق ہفتے کی شام ماہی گیرسمندرمیں مچھلی کا شکارکررہے تھے، ماہی گیر کھائی کریک پر جال ڈالے

موجود تھے کہ اسی دوران ان کو کگھا مچھلی کا ایک بہت بڑا جھرمٹ دکھائی دیا، جسے انھوں نے پکڑنے کی کوشش کی۔ مچھلی کا غول چونکہ بہت بڑا تھا اسی وجہ سے دیگرماہی گیروں کوبھی مدد کے لیے بلایا گیا جس کے بعد کگھا مچھلی کے جھرمٹ سے ماہی گیروں نے 100 ٹن مچھلی شکارکی جو کہ کراچی فش ہاربرپرایک کروڑ10 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ترجمان ڈبیلو ڈبیلوایف کے مطابق جب کگھا مادہ مچھلی کے انڈے بچے دینے کے وقت اس قسم کا گروپ بنتا ہے، مادہ مچھلی انڈے دیتی ہے اورنرمچھلی اسے منہ میں رکھتی جاتی ہے، ایک مہینے بعد ان انڈوں سے بچے نکلتے ہیں، اس دوران نرمچھلی کوئی بھی غذا نہیں کھاتا۔گذشتہ 15 سال کے دوران کگھا مچھلی کے جھرمٹ میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے، کگھا مچھلی کی افزائش میں کمی ماہی گیروں کی جانب سے اس کا بے دریغ شکار ہے تاہم آخری باراس قسم کا غول سن 2017 میں جمع ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…