اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

بچوں کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہوچکا، حکومت تعلیمی اداروں کی مزید بندش سے گریز کرے، نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پاکستان نے بھی حکومتی فیصلے کی مخالفت کر دی

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ اسکولز پاکستان کے شریک چیئرمین معروف تعلیمی شخصیت ملک محمد عمران نے کہاہے کہ طویل لاک ڈاون سے پہلے ہی تعلیمی ادارے تباہی کا شکار جبکہ بچوں کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہوچکاہے، حکومت تعلیمی اداروں کی مزید بندش سے گریز کرے اور کہاہے کہ نجی تعلیمی ادارے واحد جگہ ہیں جہاں ایس او پیز پر مکمل عمل

ہورہاہے اور بچے زیادہ محفوظ ہیں انہیں بند کرنے سے کرونا میں کمی کی بجائے یہ وبا مزید پھیلنے کاخدشہ ہے۔ گزشتہ روز یہاں سے جاری بیان میں ملک محمد عمران کا کہنا تھاکہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے حکومتی اعلان کردہ ایس او پیزپر سختی سے عمل پیرا تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے وائرس کنٹرول کرنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ وائرس کے پھیلاؤ میں شدت آسکتی ہے۔ لوگ گھروں میں رہنے کی بجائے سیروسیاحت اور دیگر سوشل مصروفیات کے لئے نکل پڑتے ہیں اور وہاں Sop’s پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کورونا وبا شدت اختیار کر سکتی ہے۔ملک محمد عمران کا کہنا تھاکہ تعلیمی اداروں کی طویل بندش سے پہلے ہی ناقابل تلافی تعلیمی و مالی نقصان ہوچکاہے، نجی تعلیمی ادارے حکومتی اعلان کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل کررہے ہیں۔آن لائن سسٹم پر بھی عمل کرنا اس لیے ناممکن ہے کہ ملک کے پسماندہ اور دوردراز علاقوں میں نہ تو بجلی ہے نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت ان حالات میں سخت گرمی کے دنوں میں امتحانات کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔طویل بندش سے ہزاروں تعلیمی ادارے پہلے ہی بنداورمالی مسائل کا شکار ہیں، حکومت سکول بند کرناچاہتی ہے تو نجی تعلیمی اداروں کے لیے ریلیف پیکج بھی فراہم کرے۔تعلیمی اداروں کے ساتھ نہ صرف لاکھوں اساتذہ اور دیگر عملہ بلکہ پک اینڈ ڈراپ سروس، کنٹین، یونیفارم، سٹیشنری کی اشیاء ،کتب شاپس،پرنٹنگ پریس وغیرہ کی

سہولت دینے والے لاکھوں لوگوں کا بھی روزگار وابستہ ہے۔اس وقت ملک میں صرف تعلیمی ادارے ہی ایسی جگہ ہیں جہاں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا جارہاہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو جاری رکھا جائے یا پھر بازاروں، منڈیوں، فیکٹریوں،کارخانہ جات، ٹرانسپورٹ، ریلویز، ایئرپورٹ،

بنکوں اور تمام قسم کے دیگر سرکاری و غیر سرکاری دفاترکے ساتھ تعلیمی ادارے بھی ایک ساتھ ہی بند کیے جائیں کیونکہ صرف تعلیمی اداروں کی بندش مسئلے کا حل نہیں ہے۔حکومت تعلیمی اداروں کے حوالے سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…