جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے، راتوں رات سیاسی پارٹی بنائی گئی،سردار اختر مینگل کے اسٹیبلشمنٹ پر پھر الزامات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور (این این آئی) بلوچ ورہنماسردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی، ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں، راتوں رات سیاسی پارٹی بنائی گئیں ۔اتوار کو یہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہاکہ کاش مجھے پشتو آتی اور پشتو میں دمادم مست قلندر کچھ اور ہی ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ پشتوں کے

ساتھ ہمارا بہت پرانا رشتہ ہے ،چالیس سالوں سے اس دھرتی پر جن پشتونوں کا خو ن بہایا گیا ہے ان کا قصور کیا تھا ؟۔ انہوںنے کہاکہ ہم بلوچستان کے لوگ ستر سالوں سے کرب میں مبتلا ہیں ، بلوچستان میں گائوں کے گائوں اجاڑ دیئے گئے ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو غائب کر دیا گیا ہے ،آج بھی ہماری مائیں اور بہنیں سڑکوں پر اپنے بچوں کی بھیک مانگ رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ سڑک ، روز گار ، سکول اور کالج کا مطالبہ نہیں کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ ملک نہیں توڑا ، ملک 1970ء میں ٹوٹا ہے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں ، آج ہم ملک کو توڑنے والی قوت کے کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کا بازار گرم ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے لوگ نہیں ہیں ، دہشتگرد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہشتگردوں کو پناہ دی ، جنہوں نے فنڈنگ کی ، دہشتگرد وہ ہیں جنہوں نے بلوچوں کی سر زمین پر بلوچوں کا خون بہایا ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی ۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک دو لخت ہوا ،سیاسی جماعتوں نے ملک نہیں توڑا ، کسی سیاسی جماعت نے بنگلالیوں کا قتل نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں ، ہم نے تمام تر زندگی سیاسی پارٹی بنانے میں لگائی ہے لیکن یہاں اسٹیبلشمنٹ راتوں رات پارٹی بناتی ہے ، ملک بھر میں مختلف ناموں سے پارٹی بنائی گئی ہیں ،

انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ تعالیٰ اس جمہوریت پر یقین رکھیں گے جس میں میرے بلوچ اور پشتون کی عزت محفوظ ہو ۔پروفیسر ساجد میر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلط کیا گیا وزیر اعظم بار بار چیزوں کو دہراتا رہتاہے اور کہتا ہے کہ پی ڈی ایم والے این آر او مانگ رہے ہیں جو میں نہیں دونگا ،کچھ دینا ان کے اختیار نہیں ہے ، جن

کے اختیار میں ہے ان کے خلاف ہماری جدوجہد ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلط کر دہ وزیر اعظم اتنا صاف ہوتا تو جہانگیر ترین ، خسرو بختیار اور ندیم بابر جیسے لوگ ان کی گود میں نہ بیٹھے ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ ایف آئی اے کے سابق افسر سجاد باجوہ نے جن چار سو ارب روپے کا الزام لگایا ہے ان میں عمران خان بھی شامل ہے ۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…