رینجرز پر حملوں میں ملوث گرفتار دہشتگردوں کے دوران تفتیش اہم انکشافات، پولیس افسر کا بیٹا بھی ملوث نکلا

  ہفتہ‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:44

کراچی(این این آئی) سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار رینجرز پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیئے ہیں۔ دہشت گردوں میں پولیس افسر کا بیٹا بھی شامل ہے۔ لاپتہ افراد کے حق میں ہونے والے احتجاج میں دہشت گرد اور ان کے سربراہ بھی شاملرہتے ہیں۔کراچی میں رینجرز پر دستی بم حملے میں گرفتار دہشت گردوں کی انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق گرفتار دہشت گرد ملزم سارنگ میرانی عرف سہیل کے والد ذوالفقار میرانی سب انسپکٹر ہیں۔جئے سندھ قومی محاز کا بانی ریاض چانڈیو ملزم کے چچا کا دوست ہے۔ ملزم سارنگ نے 2014 میں


جسقم میں شمولیت اختیار کی، پھر کچھ عرصے بعد آریسر گروپ میں شامل ہوا۔ملزم سارنگ نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو بتایا کہ کلچر ڈے کے موقع پر اس نے سندھ ریولوشن آرمی میں شمولیت اختیار کی۔دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اصغر شاہ عرف عنایت نے حملے تیز کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد گلستان جوہر میں رینجرز کی موبائل پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ایک اور گرفتار ملزم انیس احمد تنیو کے مطابق وہ سندھ ریولوشن آرمی کے ڈکیت گینگ میں شامل تھا۔ دہشت گردوں کا سرغنہ ٹریننگ کے لیے لڑکوں کو افغانستان بھی بھیجتا رہتا ہے۔گرفتار دہشت گردوں نے کراچی میں لیاقت آباد رینجرز موبائل حملے، بلاول شاہ نورانی گوٹھ میں بیکری اور ڈیفنس میں آزادی اسٹال پر حملوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎