اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

حکومت نے توانائی شعبہ میں قرضے اتارنے کی بجائے قرضوں میں مزید اضافہ کرکے کیا کام کیا؟واجب الادا قرضوں میں سینکڑوں ارب کا اضافہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) توانائی کے شعبہ میں واجب الادا قرضوں کی حد860 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے اور پی ٹی آئی حکومت نے توانائی شعبہ میں قرضے اتارنے کی بجائے قرضوں میں مزید اضافہ کرکے شعبہ توانائی کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ انرجی سیکٹر میں قرضوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ جون 2018ء تک واجب الادا قرضوں کی

سطح 616235 ملین یعنی 616ارب روپے تھے اور سکوک بانڈ سے حاصل کیا گیا قرضہ 235ارب ہے۔ حکومت نے اس قرضوں میں سے 59ارب روپے واپس یا ہے جبکہ باقی واجب الاد اقرضے 860 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور اس سال 202ارب روپے مزید قرضوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ شعبہ توانائی میں قرضوں کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ حکومت نے ان قرضوں کو اتارنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے۔ اس حوالے سے ترجمان توانائی کی وزارت جواب دینے سے قاصر ہے۔ملک کی بھر کی بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے حکومت کو 17ارب روپے کی ادائیگیاں ادا کر دی ہیں جس کے نتیجے میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کمپنیوں نے اربوں روپے کی بجلی (سی پی پی اے جی) سے خریدی تھی لیکن اس کی ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کمپنیوں میں اربوں روپے کی کرپشن موجود ہے اور بجلی کا خسارہ ظاہر کرکے حکومت سے مالی امداد کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ان کمپنیوں میں لائن لاسز خسارہ مقررہ حد سے گزر گئی ہے کیونکہ بجلی چوری ان کمپنیوں میں انتہا کی کر دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق فیسکو اور آئیسکو کے علاوہ باقی ڈیسکوز میں خسارہ حد سے بڑھ گیا ہے اور بجلی خرید کی قیمت بھی ان کمپنیوں کو ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…