بدلتا موسم اور ممکنہ سموگ کے مضر اثرات ،شہریوں کو احتیاطی تدابیر جاری پھیلتی سموگ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ قرار، ماہرین کا انتباہ جاری

  جمعہ‬‮ 23 اکتوبر‬‮ 2020  |  16:24

فیصل آباد (آن لائن) بدلتے ہوئے موسم میں ممکنہ سموگ کی صورتحال سے نپٹنے اوراس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے شہری احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں تاکہ صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ بات میڈیکل سوشل آفیسر ایف آئی سی آسیہ فقیر حسین نے ہارٹ سیور فائونڈیشن اینڈ میڈیکل سوشل سروسز یونٹ کے زیر اہتمام فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مختلف وارڈزمیںمریضوں کے لواحقین اور شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس تقسیم کرتے ہوئے کہی۔جنرل سیکرٹری ہارٹ سیور فاؤنڈیشن کاشف فاروق، مینجر عاصمہ مزمل نے بھی پمفلٹس تقسیم کئے۔میڈیکل سوشل آفیسر نے کہا کہ سردی


کے موسم میں دھند اور دھواں کی آمیزش سے ماحول میں سموگ کی صورتحال انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے جس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی بہترین اقدام ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے افراد کے علاوہ محلے داروں اور اردگرد کے افراد کو سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔انہوں نے موسمی تغیرات کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے حکومت کے صحیح سمت اقدامات اور پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری اور درختوں کی حفاظت سے موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جنرل سیکرٹری ہارٹ سیور فاؤنڈیشن نے کہا کہ موسمیاتی خرابیوں کا بروقت ادراک ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ان چیلنجز کا مقابلہ پوری تیاری کے ساتھ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کی صورتحال میں صحت کے بچاؤ کے لئے ہر گھر میں احتیاطی اقدامات ضرور کئے جائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎