جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

ادارے ہمارے اپنے ہیں مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہئے،عوام کا رخ کس جانب موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ مولانافضل الرحمن کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 17  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اورجمعیت علماء اسلام کے امیرمولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ناجائز اور جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے،ادارے ہمارے اپنے ہیں مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہئے،جن سے شکوہ کررہے ہیں وہ بھی تو ہمارے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کی شب جامعہ فاروقیہ۔ٹو میں پریس کانفرنس

سے خطاب میں کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ جے یوآئی پنجاب کے امیر ڈاکٹر عتیق الرحمن، صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان و دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جامعہ فاروقیہ میں شہید کی تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ڈاکٹر عادل خان کا قتل علمی دنیا کا بڑا نقصان ہے۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت بہت بڑا سانحہ ہے، ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ میرے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شہادت سے ہفتہ دس دن قبل ان مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں، اتنے قیمتی علما شہید ہوئے کہ آج تک کسی کے خلا کو کرنہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عادل خان صاحب شہید کے سانحے پر کون سا دل ہوگا جو غمزدہ نہ ہو گا، کون سی آنکھ ہوگی جو اشک بار نہ ہوگی۔ مولانا عادل خان کی شہادت کا سانحہ صرف ان کے خاندان، جامعہ اور متعلقین کا غم نہیں پورے ایک جہاں اور ہم سب کا مشترکہ صدمہ ہے۔ کوئی قوم قبیلہ معاشرہ شخصیات کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا لیکن کی امت کی بقا کی دار و مدار عقائد پر ہوتا ہے۔ایسے واقعات میں ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہئے کہ جو شخص جام شہادت نوش کرکے چلاگیا اس کی زندگی کا مقصد اور نصب العین کیا تھا، ہمیں ان اداروں، عمارتوں اور جامعات کے مستقبل کا بھی سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ایسی شخصیات کیوں گولیوں کا نشانہ بنتی ہیں۔شہر قائد ماضی میں بھی خون میں نہلایا گیا۔بڑے بڑے علما شہید

کردیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ تفتیش میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔قاتلوں کی تصاویر بھی واضح ہیں مگر پھر بھی ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ عدم تحفظ کی فضا بنادی گئی ہے۔جامعہ فاروقیہ کو اب تک کوئی سیکورٹی نہیں دی گئی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں فرقہ وران فسادات کی کوشش کی گئی۔ قرارداد پاکستان کے نکات پر آج بھی سب اتفاق کرتے ہیں۔مختلف

مکاتب فکر کو آپس میں لڑانے کی سازش کسی اور کی ہے۔عوام کے دباؤ کا رخ کسی اور کی طرف موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ملک کو چلانا ہے تو آئین اور ضابطوں پر عمل کرنا ہے۔ ہم انہیں پہچانتے ہیں مگر نام نہیں لے رہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوام حکومت سے مایوس ہوچکی ہے۔ تمام سیاستدانوں عوام کی آواز بن چکے ہیں۔حکومت کے اعصاب اتنے بڑے دباؤ کو برداشت

نہیں کرسکتی۔ناجائز اور جعلی حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اداروں سے گلہ کررہے ہیں تو اس لیے کہ وہ بھی ہمارے اپنے ہیں۔اداروں کو بھی خود کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔ سمندر کی موجیں مچھلیوں کو تھکا نہیں سکتیں۔ چھاؤں

میں رہنے والے دھوپ میں رہنے والوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ذمے داری سیاستدانوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ادارے ہمارے اپنے ہیں مگر انہیں آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے۔جن سے شکوہ کررہے ہیں وہ بھی تو ہمارے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…