ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس ، ملزم عابد علی کو جیل کی سلاخوں میں پہنچانے کیلئے انسپکٹر ہوتے ہوئے ڈی ایس پی کی ڈیوٹی کی ، انسپکٹر حسنین حیدر نے آخری تین دن کیا کام نہیں کیا تھا ،یہ ہوتے ہیں اصل ہیروز ، ملک میں تالیاں ان لوگوں کیلئے بجنی چاہییں، انہیں ایوارڈ اور نقد انعام ملنا چاہیے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’عابد علی کیسے گرفتار ہوا؟‘‘ میں لکھتےہیں کہ۔۔۔عابد علی نے گرفتار ہونا ہی تھا اور یہ گرفتار ہو ہی گیا لیکن اس کہانی میں چند غیرمعمولی کردار اور چند غیر معمولی حقائق ہیں‘ ہمیں چاہیے ہم ان غیر معمولی حقائق پر ضرور توجہ دیں‘ پہلی حقیقت عابد علی کا بیک گراؤنڈ اور ریاست کی نالائقی ہے‘ اس کے خلاف 14 مقدمات ہیں‘

یہ دو مرتبہ گرفتار بھی ہوا اور جیل بھی گیا لیکن یہ اس کے باوجود ریاست کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔یہ وارداتیں کرتا رہا اور ریاست اس کے وجود تک سے ناواقف رہی‘ دوسرا یہ غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے‘ یہ لوگ مزدوری کرتے ہیں‘ دوسروں کی بھینسوں کو چارہ ڈالتے ہیں ‘ یہ اس ملک میں آٹھ نو کروڑ ہیں اور ریاست ان آٹھ نو کروڑ عابد علی جیسے لوگوں کی جذباتی اور ذہنی حالت میں تبدیلی سے بھی واقف نہیں۔ان میں سے کون کس وقت خطرناک ہو جائے ہم نہیں جانتے‘ تیسرا اس ملک میں واردات کے بعد چھپنا کتنا آسان ہے‘ یہ موسٹ وانٹیڈ ہونے کے باوجود بسوں میں سفر کرتا رہا‘ یہ پیسوں اور کپڑوں کے بغیر بھی پورا مہینہ سروائیو کر گیا‘ یہ مانگ کر کھا لیتا تھا‘ یہ مزدوری کرتا رہا‘ لفٹ لے کر شہر شہر گھومتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور چوتھا اس نے اس دوران صرف داڑھی بڑھا لی تھی اور یہ داڑھی اس کی محافظ بن گئی۔لوگ داڑھی کے پیچھے چھپے عابد علی کو نہ پہچان سکے‘ ہماری ریاست کو ان چاروں حقائق کو دیکھ اور سمجھ کر کوئی پالیسی بنانی ہو گی‘ ہم لوگ کیوں کسی اجنبی کو لفٹ دے دیتے ہیں اور کیوں شناختی کارڈ دیکھے بغیر لوگوں کو ملازمت دے دیتے ہیں؟ ہمیں سوچنا ہو گا۔ ہم اب غیر معمولی کرداروں کی طرف آتے ہیں۔ہمیں سی آئی اے ماڈل ٹاؤن کی ان 9 ٹیموں کے اہلکاروں کو میڈل بھی دینے چاہییں اور پروموشن بھی جو مسلسل ایک ماہ عابد علی کے رشتے داروں کے گھروں اور گلیوں میں ڈیوٹی دیتے رہے‘ وہ اہلکار اعزاز کے مستحق ہیں جو اس کے والد کے گھر کے باہر فروٹ اور چھلی کی ریڑھی لگا کر بیٹھے رہے اور وہ ڈی ایس پی حسنین حیدر بھی جو انسپکٹر ہوتے ہوئے ڈی ایس پی کی ڈیوٹی کرتا رہا۔جو ایک ماہ تین دن عابد علی کے پیچھے بھاگتا رہا اور جس نے ملزم کو جیل پہنچانے تک آخری تین دن کھانا کھایا اور نہ نیند لی‘ یہ لوگ اصل ہیروز ہیں‘ ملک میں تالیاں ان کے لیے بجنی چاہییں‘ ایوارڈ اور نقد انعام ان کو ملنے چاہییں لیکن آپ ہمارا کمال دیکھیے‘ حکومت مبارک باد عثمان بزدار اور عمران خان کو دے رہی ہے‘ شادیانے آئی جی کے لیے بج رہے ہیں‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…