اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس سے متعلق الیکشن کمیشن سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا ۔عدالت نے فیصل واوڈا اور ان کے وکیل کی عدم موجودگی کے باوجود عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے
جج جسٹس عامرفاروق نے کیس کی سماعت کی ،سماعت کا آغاز ہوا تو فیصل واوڈا کی جانب سے کوئی جواب جمع نہ کرایا جا سکا اور نہ ہی ان کی جانب سے وکیل پیش ہوا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے ۔درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ فیصل واوڈا نے عدالت کو مذاق بنایا ہوا ہے ،فیصل واوڈا عدالتی نظام پر ہنس رہا ہوگا۔جس پر جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ یہ ایک اہم اور قانونی معاملہ ہے اس کیس کو سیاسی نہ بنائیں ۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصل واوڈا کو دوہری شہریت چھپانے پر نااہل کیا جائے ،29جنوری سے عدالت نے فیصل واوڈا سے جواب طلب کر رکھا ہے ،فیصل واوڈا بار بار عدالتی احکامات کو نظر اندازکر رہے ہیں ۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیصل واوڈا کا عدالت میں پیش نہ ہونے سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے ہمیں پتہ ہے کیس کو کیسے ہینڈل کرنا ہے ،الیکشن کمیشن کے پاس مکمل ریکارڈ ہو گا۔ کاغذات نامزدگی کب جمع ہوئے، دوسری شہریت کب چھوڑی گئی الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر آگے چلیں گے ۔عدالت نے الیکشن کمیشن سے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائیں گے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت چار نومبر تک ملتوی کر دی۔