پشاور(آن لائن) مہنگائی کی تازہ لہر کے باعث سفید پوش و متوسط اور تنخواہ دار طبقے کو شدید دھچکا پہنچنے کے ساتھ گھریلو بجٹ درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ملازمین ہر مہینے تاجروں کے مقروض ہونا شروع ہو گئے ہیں آٹے کی قلت مہنگے
د اموں فروخت ہونے کے ساتھ ساتھ چینی ، گھی ، دودھ ، دالوں ، چاول ، سبزی کے نرخوں میں اضافہ نے شہریوںکو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو پر لگ گیا ہے سبزیوں کی قیمتوں میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی 96روپے کے بجائے 105اور 110روپے فی کلو میں فروخت ہو رہاہے دودھ 130روپے فی کلو میں فروخت ہو رہاہے ۔ مختلف دالوں ،مصالہ جات کی قیمتوں میں 20سے 50روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ گھی ، آئل کی قیمتوں میں 80روپے تک کااضافہ ہوا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ کو مہنگائی کے باعث شدید ترین مشکلات درپیش آ رہی ہے مہنگائی کے باعث عام شہریوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے نکالنا شروع کردیاہے اور سرکاری سکولوں میں داخل کردیا ہے۔