کراچی(این این آئی) ممتازمذہبی اسکالرمولانا ڈاکٹرعادل خان کو مارنے سے قبل ملزمان نے ریکی بھی کی۔مولانا عادل اور ڈرائیور سے پیش آنے والے واقعہ سے جڑی ایک اور فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلمٹ لگائے ایک ملزم گاڑی کا تعاقب کر رہا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق یہ وہی ملزم ہے جو دیگر ملزمان کو حملے کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا
کر روانہ ہوتا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ملزم موٹرسائیکل پر مولانا عادل کی گاڑی کا تعاقب کررہا ہے، اس نے پینٹ شرٹ اور کالے رنگ کا ہیلمٹ پہن رکھا ہے، یہ وہی ملزم ہے جو فائرنگ کرنے والے ملزمان کو لے کر فرار ہوا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مولانا عادل کا تعاقب کورنگی دارالعلوم سے کیا گیا، جہاں سے وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد 7 بج کر 20 پر روانہ ہوئے، اور ان پر فائرنگ 7 بج کر 40 منٹ پر کی گئی۔دوسری جانب مولانا عادل خان اور ان کے ڈرائیور کی ٹارگٹ کلنگ کا واقعے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں اعلی افسران کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس، سی ٹی ڈی اور انٹیلجنس افسران شریک ہوں گے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کی حتمی کارروائی اہل خانہ مشاورت کے بعد کی جائے گی، اور اجلاس میں واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی یا تھانے میں درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تفتیشی حکام نے بتایاکہ عینی شاہدین کی مدد سے ملزمان کے خاکے تیار کیے جا رہے ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے جائے واردات کا دورہ کیا۔ دہشت گردوں کا روٹ میپ تیارکرلیا گیا۔ تاہم واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا۔ پولیس کے مطابق مولانا عادل کی گاڑی گنجان آباد علاقے شاہ فیصل کالونی میں مٹھائی کی دکان کے سامنے سڑک کی دوسری طرف رکی۔اس سے قبل سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک
پر ٹریفک رواں دواں ہے مگر اچانک پیچھے سے 2 ملزمان آتے ہیں اور ان میں سے 1 ملزم گاڑی پر گولیاں برساتا ہے اور دوسرا ٹریفک کنٹرول کرتا رہا، تاکہ فرار ہونے کی صورت میں مسئلہ نہ ہو۔فائرنگ کے بعد دونوں ملزمان تیسرے ساتھی کے پاس جاتے ہیں، جو موٹر سائیکل کے ہمراہ موجود ہے۔ تینوں ملزمان اسی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گاڑی کی مخالف سمت سے فرار ہوجاتے ہیں۔