جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

میری شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی،90 سال کی ہو چکی ہوں،بزرگ خاتون حقِ مہر کیلئے سپریم کورٹ پہنچ گئیں،سپریم عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران خاتون سے مہلت مانگ لی ‎

datetime 2  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن )شادی کے 75 سال بعد بھی حق مہر نہ ملنے پر 90 سالہ خاتون عدالت پہنچ گئیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی90سالہ خاتون نے اپنے حق مہر کیلئے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا ہے کہ ان کا کیس 1970 سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ہے۔خاتون نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ

پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی اور اب 90 سال کی ہو چکی ہوں لیکن حق مہر نہیں مل سکا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مختلف عدالتوں سے میرے حق میں فیصلے ہونے کے باوجود حق مہر کی زمین کا قبضہ نہیں مل سکا۔وکیل درخواستگزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ میری موکلہ کا حقِ مہر 3 کنال 10 مرلے زمین تھا، یہ زمین نام ہونے کے باوجود اس کا قبضہ نہیں مل سکا۔وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ درخواستگزار کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، مختلف عدالتوں سے فیصلے حق میں ہونے کے باوجود اجرا کے معاملے میں جعلی رپورٹ پیش کی گئی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حق مہر کے اجرا کے معاملے کو سیشن کورٹ میں بھیجنے کا حکم دے سکتے ہیں یا پھردرخواست خارج ہو جائے گی، ہمیں سوچنے کیلئے کچھ مہلت دیں۔ ضعیف العمر خاتون کی سوچنے کے لئے کچھ مہلت کی درخواست پر عدالت نے سماعت نومبر تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حق مہر کے حصول کیلئے سپریم کورٹ آنے والی ضعیف العمر خاتون نے بتایا کہ میری شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی اور اب 90 سال کی ہو چکی ہوں لیکن اب تک حق مہر نہیں مل سکا۔سعیدہ سلطان کا کہنا تھا کہ کیس 1970 سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے، میرے حق میں فیصلے ہونے کے باوجود قبضہ نہیں مل سکا۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ 2010 میں مجھے قبضہ دلانے کے حوالے سے جعلی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئیں، اب اگر سیشن کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا تو کیا 200 سال کی عمر میں انصاف ملے گا؟سعیدہ سلطان نے کہا کہ سب بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں، میرے ساتھ بھی انصاف کیا جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…