سندھ حکومت نے 17 کلومیٹر گیس لائن بچھانے کی اجازت نہیں دے رہی ،گیس کے شعبے میں گردشی قرضے کتنے ارب تک پہنچ گئے، وزیر توانائی کا اعتراف

  جمعہ‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2020  |  0:17

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ سندھ حکومت نے 17 کلومیٹر گیس لائن بچھانے کی اجازت نہیں دے رہی اگر اجازت ملی تو گیس کی کمی کو کسی حد تک پوری کرسکیں گے ،پاکستان میں اپنی گیس کی کمی ہے اس لیے درآمد کرنی پڑے ہوگی ،توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے 250 ارب تک پہنچ گئے ہیں، وجہ ماضی کی غلط پالیسیاں ہیں ۔وزیراعظم کےمعاون خصوصی ندیم بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ سندھ میں اس وقت سندھ گیس کی کمی 250ایم ایم سی ایف ڈی آرہی


ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ یہ چیز آرٹیکل 158 سے آگے چلی گئی ہیں اور اسی وجہ سے وزیراعظم نے کانفرنس بلائی تھی جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ انہوںنے کہاکہ مشترکہ مفادات کونسل کی تجویز پر اس کانفرنس کا مقصد تھا کہ پاکستان میں آگے جاکر گیس کی قیمت مقرر کرنے کے طریقہ پر اتفاق رائے پیدا کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ ہم تقریباً ڈیڑھ سال سے بات کررہے ہیں کہ 17 کلومیٹر کا ایک حصہ جہاں گیس کی پائپ لائن بچھانے کے لیکن سندھ حکومت نے بدقسمتی سے اب تک اس کی اجازت نہیں دی۔وفاقی وزیر نے کہاکہ سندھ حکومت اس 17 کلومیٹر میں لائن بچھانے کی اجازت دیتی ہے تو ہم جلد ازجلد اس کو پورا کرکے سسٹم میں 150 ایم ایم سی گیس ڈال سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنی گیس کی کمی ہے اس لیے درآمد کرنی پڑے ہوگی اور اس وقت گیس کے شعبے گردشی قرضہ 250 ارب روپے ہے، جس کی وجہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔عمرایوب نے کہا کہ آگے جا کر گیس کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار پر ہمیں باہمہ اشتراک سے معاہدہ کرنا پڑے گا اور فوراً ہمیں منصوبہ بندی کرکے کام میں تیزی لانا ہوگی۔اس موقع پر ندیم بابر نے کہا کہ سندھ میں خاصکر کراچی میں گیس کا پریشر کم ہے اور شکایات موصول ہورہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ برس سوئی سدرن گیس پائپ لائن سسٹم میں تقریباً 1120 سے 1150 ملین کیوبک فٹ گیس شامل ہورہی تھی لیکن آج یہ نمبر گرکر 960 سے 970 پر آگیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر سارے سال کی شرح نکالوں تو140 سے 150 ملین کیوبک فٹ پیداوار میں کمی ہے جبکہ سوئی سدرن کے لیے طلب میں100 کا اضافہ ہوا ہے اور 250 کی کمی آرہی ہے۔ندیم بابر نے کہا کہ سوئی ناردرن میں کمی نہیں آرہی جبکہ دونوں کمپنیوں میں فرق وجہ یہ ہے کہ سوئی سدرن یا سندھ میں یہ پوزیشن رہی ہے کہ ہم مقامی گیس استعمال کریں گے اور ایل این جی استعمال نہیں کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پچھلے جون سے کراچی الیکٹرک کے(کے-الیکٹرک) کے لیے اوسطاً 100بلین کیوبک فٹ ایل این جی کی فراہمی شروع کی ہے اور ابھی 110 ہے لیکن اوسطاً 100 بلین کیوبک فٹ ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ ڈھائی سو کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم 100 بلین کراچی الیکٹرک کو دے کر مسائل کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ورنہ حالات مزید خراب ہوتے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎