اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

چراغ تلے اندھیرا، اسلام آباد میں نوکری کا جھانسہ دے کر حوا کی بیٹی کو بے آبرو کر دیا گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارالحکومت میں نوکری کاجھانسا دے کر دکھیاری لڑکی کی عزت تار تار کردی گئی،پولیس نے بعد از میڈیکل مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔صائمہ پروین نے تھانہ کراچی کمپنی کو تحریری درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ان کی ملاقات حناکنول نامی لڑکی سے ہوئی تھی جس کو انہوں نے اپنی نوکری سے متعلق کہا ۔مذکورہ لڑکی نے مجھے دلاسہ

دیا کہ وہ ان کی نوکری کسی این جی او میں لگوانے کی کوشش کریں گی ۔بعد ازاں حنا سے اسی لالچ کے پیش نظر ایک دوستی سا بندھن بندھ گیا چونکہ میرے پاس موبائل نہ ہونے کے باعث حنا کنول اکثر میرے گھر آیا جایا کرتی تھی اور ایک روز انہوں نے ایک عدد موبائل اور سم نمبر0332-5844879خرید کر دیا ۔مورخہ 3ستمبرباوقت ساڑھے بارہ بجے مجھے حنا نے کال کی کہ تم کراچی کمپنی بس سٹاپ پر آجائو وہاں ان کے تعلق دار ناصر عباس خان اپنی گاڑی میں لے کر کسی دفتر جانا ہے ۔اسی طرح ہوا کہ مذکورہ شخص نے کراچی کمپنی پہنچ کر مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا دیا ، اس وقت حنا کنول بھی موجود تھی ، راستے میں مذکورہ شخص نے میرے ساتھ چھیڑخوانی کرنا شروع کردی تو میں نے شور مچایا تاہم مجھے زدوکوب کرنے کے بعد میں خاموش ہو گئی اور وہ مجھے ایک ویران جگہ پر لے گئے اور وہاں ایک نامعلوم شخص جس کے ہاتھ میں اسلحہ تھا وہ بھی آگیا اور انہوں نے زبردستی مجھے بے آبرو کیا اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے کسی کے سامنے نام تک لیا تو وہ اس کی فیملی کو جان سے مار دینگے ۔کراچی کمپنی پولیس نے صائمہ پروین دختر محمد اقبال کا ابتدائی میڈیکل کروا کر مقدمہ نمبر384زیر دفعہ376/109 اور34کے تحت درج کرلیا ۔ وفاقی دارالحکومت میں نوکری کاجھانسا دے کر دکھیاری لڑکی کی عزت تار تار کردی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…