اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

موٹر وے کیس میں ملوث ملزمان کو سرعام پھانسی پاکستانی عوام نے ریفرنڈم میں اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)لاہور سیالکوٹ موٹر وے  پر پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھنائونے جرم میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دی جائے۔

اس مقصد کیلئے سوشل میدیا پر پہلے روز سے ہی مہم جاری ہے جہاں اب دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ریفرنڈم بھی کیا جارہا ہے جس میں لوگوں سے رائے لی جارہی ہے کہ وہ مجرمان کی سرعام پھانسی کے حوالے سے کیا کہتے ہیں، اس ریفرنڈم میں ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شرکت کی گئی اور اکثریت کی طرف سے اس ریفرنڈم کے حق میں پیغامات بھیجے جارہے ہیں۔ٹویٹر پر ایک صارف نوید نے کہا ہے کہ سخت سزائوں کیلئے مزید کتنے کیسز کا انتظار کیا جائے گا؟ مزید کتنی زندگیاں ضائع ہوں گی تو ان درندوں کو سرعام پھانسی دی جائے گی؟اس بار ہم اپنے مستقبل کیلئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ملزموں کو سرعام پھانسی دی جانی چاہئے ملک عامر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ ایسے ملزمان کو سرعام سنگسار کرنے کے حق میں، اگر آپ بھی اس کے حق میں ہیں تو اس پیغام کو آگے بڑھائیں۔ایک شہری توقیر احمد نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ میرا نام توقیر ہے میں سرعام پھانسی کے حق میں ووٹ دیتا ہوں۔

اس حوالے سے ایک اور ٹوئیٹر صارف عزیزگیلانی نے لکھا ہے کہ انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے انکار ہے، عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ ملزمان کے ساتھ کیا کیا جائے۔ ایک پاکستانی شہری بخت نواز سواتی نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ ضرورت ہے سخت قانون کی، ضرورت

ہے شفاف عدالتی نظام کی، ضرورت ہے اسلامی قانون کی، ورنہ ہماری معاشرہ عنقریب تباہ ہوجائے گا۔دوسری جانب لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کی پیروی کیلئے قائم پراسیکیوشن کمیٹی کے ایک ممبر کو تبدیل کردیا گیا ۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹررائے مشتاق نے کیس پر 4رکنی کمیٹی

تشکیل دے رکھی تھی جس میں پبلک پراسیکیوٹر شہباز خان، حبیب الرحمن ، ساجد سعید اور محسن حسن بھٹی شامل تھے۔تاہم رائے مشتاق نے محسن حسن بھٹی کو کمیٹی سے ہٹا کر ان کی جگہ پراسیکیوٹر محمد شبیر کو کمیٹی میں شامل کر دیا ہے۔ملزمان کے خلاف تھانہ گجرپورہ می ںمقدمہ درج ہے

، پراسیکیوشن ٹیم مقدمہ کی تمام تفصیل ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر آفس کو فراہم کرے گی اور پولیس کے ساتھ مل کر ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…