جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

موٹر وے سانحہ، مجرمان انسان نہیں جانور ہیں، انہیں نامرد بنانے کا بل اسمبلی سے منظور کراکر دکھائوں گا،فیصل واوڈاکا دعویٰ

datetime 12  ستمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہاہے کہ مجرمان انسان نہیں جانور ہیں، انہیں نامرد بنانے کا بل اسمبلی سے منظور کراکر دکھائوں گا، مجرموں کو سزائیں دیں گے تو ہی ڈر پیدا ہوگا، درندہ صفت انسانوں کیلئے پھانسی کا قانون ہونا چاہیے۔ جو ہیومن رائٹس کے چیمپئن بنتے ہیں انکے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوں تو پھر ان سے پوچھوں گا،پولیس اس کیس پر صحیح

سے کام کر رہی ہے۔جمعہ کووفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کراچی کے علاقے عیسی نگری میں ننھی مروہ کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ہر طرح کے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت میںکہا کہ مروہ کیساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ بہت تکلیف دہ ہے، مروہ کے والد اور داداکہہ رہے ہیں ہماری بیٹی چلی گئی باقی کو بچالیں۔انہوں نے بتایا کہ 17 لوگوں کاڈی این اے ٹیسٹ لیا گیا ،ایک آدمی کو پکڑا گیا ہے، جولوگ خواتین سے شرمناک کام کررہے ہیں وہ انسان نہیں جانورہیں، بچی کو جس طرح مارا گیا ایسے تو جانور کو بھی نہیں ماراجاتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا کے قانون کو اسمبلی سے منظورکراکر دکھائوں گا، میں نے ایسے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی بات اٹھائی ہے، قانون بننے کے بعد عدالت میں 2ہفتے میں فیصلہ ہوناچاہیے ، مجرم کو اپیل کیلئے بھی صرف2ہفتے ملنے چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ایسا قانون بنانا ہے کہ کیس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہی ہو، رات اوردن دیہاڑیایسے گھنانے واقعات پیش آرہے ہیں، میری وزیراعظم سے اس حوالے پرتفصیل سے بات ہوئی ہے۔فیصل واوڈ نے کہا کہ جوان بچی کو بلیک میل کرکے اسے مرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، مروہ میری ، بلاول بھٹو،شاہدخاقان کی بھی بیٹی کی طرح ہے، ایسے لوگوں کوشرم آنی چاہئے جوایسے وقت پربھی کردارکشی کی بات کرتے ہیں۔وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہاکہ

تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے بھی کہتاہوں خداراکھڑے ہوں، خواتین ہماری مائیں ہیں ،ہم توان کے پیروں تلے جنت مانگتے ہیں، ہمارامذہب کسی پرالزام تراشی کی اجازت نہیں دیتا، مجرموں کو سخت سزائیں دیں گے تو ہی ڈر پیدا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…