پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

عاصم باجوہ جب تک خود کو عدالت سے بے گناہ ثابت نہیں کرتے تب تک عہدوں سے الگ رہیں،پانامہ کیس اور عاصم باجوہ کیس میں مماثلت، اہم مطالبہ کردیا گیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عاصم سلیم باجوہ سے سی پیک کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ جب تک عدالت جاکر خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرتے تب تک وہ سی پیک کی سربراہی سے الگ ہوجائیں اگر اب بھی وہ اپنے عہدوں پر قائم رہے تو پھر ثابت ہوگا کہ احتساب کے نام پرصرف

ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ وہ ہفتہ کو اپنی رہائش گاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر جے یو آئی بہاولپور کے رہنما قاری محمد سہیل صدیقی، قاری عبدالعزیز حسان، قاری محمد ادریس فاروقی، قاری فضل الحق حقانی بھی موجود تھے۔ حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب کسی پر کرپشن کا الزام لگے تو وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوجائے لیکن اب وہ پیش کئے گئے استعفیٰ کو بھی واپس کررہے ہیں جوکہ عمران خان کا ایک اور بڑا یوٹرن ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک عاصم سلیم باجوہ خود پر لگائے گئے الزامات سے بری نہیں ہوتے تب تک وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات سمیت سی پیک کی سربراہی سے مستعفی ہوجائیں، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ کچھ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں یا ان کو بالاتر رکھا جاتا ہے جنرل پرویزمشرف لال مسجد، نواب اکبر بگٹی قتل کیس اور پاکستان کے آئین کو توڑنے آرٹیکل 6 کے تحت اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جارہے تھے کہ ایک ادارے نے کس طرح انہیں عدالت کے بجائے امراض قلب کے اسپتال پہنچا دیاتھا حالانکہ پرویز مشرف کو تکلیف کمر کی تھی لیکن دل کے اسپتال میں پہنچایا گیا اور اب وہ دبئی میں بیٹھے ہیں، انہوں نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کا کیس پانامہ کیس سے مماثلت رکھتا ہے وہاں بھی دو بیٹوں کا مسئلہ تھا یہاں بھی دو بیٹوں

کا مسئلہ ہے وہاں برطانیہ میں جائیداد کی بات تھی یہاں امریکہ میں جائیداد کی بات ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کیس سیاستدان کے خلاف تھا اور یہ کیس رٹائرڈ جنرل کے خلاف ہے، حافظ حسین احمد نے دعویٰ کیا کہ

عاصم سلیم باجوہ اسٹوری کرنے والے صحافی احمد نورانی کے خلاف عدالت نہیں جائیں گے کیوں کہ ماضی میں جب اس طرح کے انکشافات ہوئے تو عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا گیا مگر عدالت کوئی نہیں گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…