اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کون باجوہ صاحب؟ کیا ہو گیا ان کو؟ ڈی جی نیب کا جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو پہچاننے سے انکار

datetime 3  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اس ویڈیو میں ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ عاصم سلیم باجوہ کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آنے پر ان کا موقف کیا ہے، کیا اس پر کارروائی نہیں ہونی چاہئے، اس سوال کے جواب میں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا کہ کون باجوہ صاحب؟

کیا ہوگیا ان کو؟ ہمارے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے کھربوں روپیوں کے فنڈز آئے لیکن وہ کرپشن کی نذر ہوگئے، ٹینکیوں سے اربوں روپے برآمد ہوئے لیکن احتساب کے حوالے سے کوئی بات آگے نہیں بڑھ سکی، عاصم سلیم باجوہ کے متعلق کھربوں کی باتیں ہورہی ہیں لیکن نہ اس کی کوئی تردید سامنے آرہی اور نہ ہی اب تک کوئی تحقیقات کے حوالے سے پیش رفت ہورہی ہے۔ جمعرات کے روز اپنی رہائشگاہ جامع مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ کا ابھی اس ادارے سے کوئی تعلق نہیں اب تو وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور سی پیک کے سربراہ ہیں اس لیے ضروری ہے کہ عاصم سلیم باجوہ پر جو الزامات ہیں ان کی تردید کی جائے یا تحقیقات کی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں کہا جارہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ پر الزامات بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے اگر یہ بین الاقوامی سازش ہے تو اسے بے نقاب کیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اصل حقائق کیا ہیں لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں دیکھا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور دیگر ریٹائرڈ لوگ احتسابی ڈنڈے کی دسترس سے باہر رہے ہیں اور عدالتی شکنجے سے بھی ان کو بچایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…