اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، بجلی سستے ہونے کا خواب ادھورا رہ گیا، آئی پی پیز معاہدے سے مکر گئیں

datetime 2  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد سنگین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق آپس میں بداعتمادی کی وجہ سے آئی پی پیز کے دو بڑے گروہوں اور آئی پی پیز کی ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین خالد منصور میں اختلافات منظر عام پر آگئے ہیں،

انہوں نے بجلی بنانے والے اداروں کی طرف سے ان مذاکرات کی سربراہی کی تھی، انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ مجھے بتایا گیا کہ چار کمپنیوں نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور، لبرٹی پاور اور اٹک جین لمیٹڈ نے آئی پی پیز سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کو خط لکھ کر میری نامزدگی پر اعتراض اٹھایا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے وہ خود نہیں دیکھا لیکن مجھے اطلاع دی گئی کہ آئی پی پیز کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ میں ان کے مفادات کا تحفظ کر سکوں گا یا ان کی نمائندگی کروں گا، اب خالد منصور نے مستعفی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق آئی پی پیز ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے تمام آئی پی پیز کی طرف سے حکومت کے ساتھ شفافیت کے ساتھ مذاکرات کیے، تمام آئی پی پیز نے رضامندی کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کیے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی سے بندوق کے زور پر ایم او یوز پر دستخط نہیں کرائے گئے، میں نے اپنا پیشہ وارانہ وقار سب سے اہم سمجھا اوراستعفیٰ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان ہونے والے ایم او یوز کا دورانیہ 6 ماہ ہے، ان 6 ماہ میں آئی پی پیز سے نئے معاہدوں سمیت تمام امور کو حتمی شکل دی جانی ہے۔ انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد سنگین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…