پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کے پی میں سرکاری ملازمتوں کیلئے ٹیسٹنگ اداروں کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کاتہلکہ خیز انکشاف

datetime 29  اگست‬‮  2020 |

پشاور (این این آئی)خیبر پختونخوا کے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے امتحانات لینے والے ٹیسٹنگ اداروں کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو ارسال کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مختلف سرکاری محکموں نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کے قوانین نظر انداز کرتے ہوئے ٹیسٹ کے لیے من پسند ایجنسی کا انتخاب کیا۔

رپورٹ کے مطابق رولز کی خلاف ورزی سے خزانیکو نقصان ہواہے اور بھرتیوں کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے محکموں میں ہونے والی بھرتیوں سے متعلق شکایات ملنے پر نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اخترحیات خان کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو ارسال کردی ہے جس کے مطابق صحت، تعلیم، سی اینڈ ڈبلیو، آب پاشی اور دیگر سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ لیے گئے تھے اور محکموں نے ٹیسٹنگ اداروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے نیلامی نہیں کی اور ٹیسٹ کے لیے من پسند ایجنسیوں کا انتخاب کیا گیا۔ صحت، تعلیم، سی اینڈ ڈبلیو، آب پاشی اور دیگر محکموں اور ٹیسٹنگ اداروں نے کمیٹی کو ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔رپورٹ کے مطابق ٹیسٹنگ ایجنسیز کی خدمات حاصل کرنے کے دوران کیپرا رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، ہر سرکاری محکمے نے اپنے طور پر ٹیسٹنگ ادارے کے ساتھ معاہدہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ ٹیسٹنگ ایجنسیز کا انتخاب کیسے کیا گیا جب کہ ٹیسٹنگ اداروں کے ساتھ معاہدوں میں پرچہ آؤٹ ہونے کے حوالے سے سیکیورٹی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ میں ٹیسٹنگ اداروں کی نگرانی کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں ہے اور ایٹا کے علاوہ دیگر کوئی ٹیسٹنگ ایجنسی صوبہ میں رجسٹرڈ نہیں۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ حکومت ایسا طریقہ کار اپنائے کہ ٹیسٹنگ ایجنسی کے انتخاب کا عمل شفاف ہو اور ایسا ادارہ بنایا جائے جو محکموں اور ٹیسٹنگ اداروں پر نظر رکھے۔ رپورٹ میں معاملے کی تفصیلی تحقیقات قومی احتساب بیورو(نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا اینٹی کرپشن سے کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…