اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

انتہائی اہم ڈیم میں پانی کی خطرناک آمد سے13سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، پانی مقررہ حد سے تجاوز،ہنگامی طور پر آبادیوں کو خالی کرانے کا سلسلہ جاری

datetime 27  اگست‬‮  2020 |

حب (آن لائن) کراچی کو پینے کا اضافی پانی اور بلوچستان کے کئی علاقوں کی آبی ضروریات پوری کرنے والے حب ڈیم میں سطح آب 13 سال بعد ساڑھے 338 فٹ کا نشان عبور کر گئی ہے، آج کسی بھی وقت ڈیم کے اسپل ویز سے اضافی پانی کا اخراج شروع ہو سکتا ہے۔واپڈا ذرائع کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی سلسلے تک پھیلے حب ڈیم کے کیچمنٹ ایریا میں حالیہ بارشوں کے بعد 3 روز

کے دوران حب ڈیم میں 8 فٹ سے زائد کی سطح پانی آچکا ہے اور گذشتہ ایک رات کے دوران حب ڈیم میں پانی کی سطح 2 فٹ بلند ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کیچمنٹ ایریا سے بارشوں کے پانی کے مزید ریلے حب ڈیم پہنچ رہے ہیں، 339 فٹ کی سطح پر آج کسی بھی وقت حب ڈیم کے اسپل ویز سے پانی کا اخراج شروع ہو سکتا ہے۔اس موقع پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حب ڈیم کے انتظامی ادارے واپڈا کے حکام اور ایریگیشن کے افسران حب ڈیم پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہنگامی صورتحال میں حب ڈیم کے نیچے کی آبادیوں سے دلیل نظامیہ کی جانب سے انخلا کرایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپل ویز سے پانی کے ازخود اخراج سے قبل حب ڈیم کے ہنگامی گیٹ کھولے جا سکتے ہیں، حب ڈیم مکمل بھرنے پر اضافی پانی حب ندی کے راستے سمندر میں گرنے لگتا ہے۔ذرائع کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد حب ڈیم میں 30 فٹ سے زائد پانی آچکا ہے۔واپڈا کے متعلق افسر سہیل صدیقی کے مطابق اب ٹیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھرا تھا، بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے سال پہلے ایسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی کہ ڈیم سے پانی کا اخراج بند ہو گیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ 45 کلو میٹر کے علاقے تک پھیلے حب ڈیم سے دو نہریں نکلتی ہیں جن میں سے ایک کینال حب ڈیم کے اطراف کے بلوچستان کے علاقوں کی زرعی ضروریات کا پانی فراہم کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب کی حب کینال سے کراچی کے غربی علاقوں کو پینے اور دیگر استعمال کے لیے یومیہ 100 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…