بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

کسی صورت یہ کام نہیں کریں گے،آڈیٹرجنرل آف پاکستان بھی وزارت خزانہ کے خلاف ڈٹ گئے، انتہائی اہم معاملے سے انکار

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت کا آئینی ادارہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ساتھ ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ تنازعہ وزارت خزانہ اور اے جی پی آر کے مابین ہوا ہے کیونکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنے مالی معاملات کا آڈٹ کرانے سے انکار کیا ہے جس کے نتیجے میں وزارت خزانہ سے صدر مملکت عارف علوی کو شکایت درج کرائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان قومی خزانہ

سے اربوں روپے فنڈز ہر سال وصول کرتے ہیں لیکن ان کے مالی معاملات کا آڈٹ آج تک نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کے دیگر آئینی ادارے جن می سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹس بھی شامل ہیں کے مالی معاملات کا آڈٹ نہیں ہوتے بلکہ ان اداروں کے اندر آڈٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے جاری ایک خط میں کہا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ایکسٹرنل آڈٹ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ حقائق کے برعکس ہے کہ ادارہ نے اپنے مالی معاملات کا آڈٹ کرانے سے انکار کیا ہے، یہ ادارہ قانون، احتساب پر مکمل یقین رکھتاہے اور آئین کی شق 19A کے تحت اپنے مالی معاملات کے آڈٹ کرایا جاتا ہے جس کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔وزارت قانون و انصاف کے آڈٹ کے حوالے سے جن قانونی شقوں کی تشریح کی ہے وہ حقائق کے برعکس ہے اور آئین کی روح کا منافی ہے کیونکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان حکومت کا حصہ نہیں ہے جس کی وضاحت آئین کے چیپٹرتھری میں دی گئی ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو صدر مملکت شق 168کے تحت تعینات کرتا ہے اس لئے یہ ادارہ وزیراعظم کو جوابدہ نہیں ہے اور آئین کی شق 170کے تحت وفاقی حکومت آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مالی معاملات کا آڈٹ کرنے کی مجاز ہی نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا اختیارات، فرائض، سروسز رولز کے حوالے سے ایک آئینی پٹیشن بھی زیرسماعت ہے اس حوالے سے وزارت خزانہ کو تمام حالات

اور قوانین سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی منفی اقدام ادارہ کے لئے نقصان دہ ہوگا اور آئین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ عدالت عالیہ اسلام آباد کے فیصلے تک کوئی بھی اقدام نہ کیا جائے، اسی عرصہ کے دوران وزارت خزانہ کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے بارے میں جو ہتک آمیز زبان اور تبصرے کئے ہیں اس سے اجتناب برتا جائے اور مستقبل میں ایسی زبان اورریمارکس استعمال کرنے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ چند روز پہلے وزارت خزانہ نے صدر کو خط لکھا تھا کہ آڈیٹر جنرل اپنے آڈٹ کرانے سے انکار کر کے غلط اقدام کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…