بدھ‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2025 

کبھی پاکستان کارڈ، کھیل کر بھی دیکھیں یاا س کا ٹھیکہ کسی اورکے پاس ہے؟

datetime 26  اگست‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دلچسپ میں نے اس لیے کہا کہ ایک وقت آیا کہ بھٹو مخالفت میں بانی متحدہ الطاف حسین اور سائیں جی ایم سید کا اتحاد ہو گیا۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر کالم نگار مظہر عباس اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ اب حال ہی میں لندن سے خبریں آرہی ہیں کہ بانی کے گروپ میں اور کچھ سندھی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں میں اتحاد ہو گیا ہے۔

حال ہی میں ہونےوالی کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے وہاں ہی سے جوڑے جارہےہیں، دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان اور کچھ دیگر کالعدم تنظیموں کے درمیان بھی ایسی ہی مشترکہ کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔کراچی میں بارشیں کیا ہوئیں کہ ایک بار پھر وفاق سے کچھ آوازیں آنے کی دیر تھی کہ سندھ کارڈ اور کراچی صوبہ کی باتیں شروع ہو گئیں مظاہرے شروع ہو گئے تو دوسری طرف کراچی پر کانفرنس۔بات بڑی سادہ سی ہے۔ وفاق نے ایک بار پھر غلط پتا پھینک دیا، رہی سہی کسر متحدہ نے پوری کر دی۔ تاش کی بازی پلٹ گئی اور بلاول بھٹو اور مراد علیٰ شاہ نے 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم کے دفاع کی باتیں شروع کر دیں۔ دوسری طرف وفاق اور سندھ حکومت نے اچھے بچوںکی طرح صفائی کرنے، سڑکیں بنانے ، پانی دینے اور سرکلر ریلوے پر اتفاق کر لیا تو پھر یہ سندھ کارڈ اور علیحدہ صوبہ کی باتیں کیوں۔ اس میں سے ریلوے کو چھوڑکر باقی کام تو بلدیاتی اداروں کے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ۔ سندھ اور وفاق میں اتفاق تو میرٹ کے کلچر کو فروغ دینے پر ہونا چاہئے تھا۔پی پی پی اور سندھ حکومت چاہے تو اس مشترکہ کمیٹی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ خود 2013 کے بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کر کے بلدیاتی اداروں کی خود مختاری بحال کرے۔

یہ کام نہیں کریں گے تو لوگ ان سےپوچھیں گے۔ابھی ڈومیسائل کےمعاملے نے سر اٹھایا تو سندھ بھر سے بجا طور پر آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ یہ سندھ میں رہنے والوں کےساتھ زیادتی ہے۔ مگر جب گریڈ 1سے 15تک کی نوکریاں مقامی لوگوں کے بجائے دوسروں کو دینے کی بات آئی تو خاموشی چھا گئی۔ اس غیر قانونی کام پر تو اکائونٹینٹ جنرل نے بھی اعتراض اٹھایا۔ ایسے پتے نہ پھینکیں

جس سے سب کانقصان ہو۔کیا عام آدمی کو صحت، تعلیم ، پینے کا صاف پانی، اچھی ٹرانسپورٹ مل گئی ہے۔ بہتر سہولتیں ملیں، نوکری یاکاروبار ہوتا تو شاید آبادی پھر بھی کنٹرول ہوتی۔ یہ بات فخریہ بتانے کی نہیں کہ ہم 22کروڑ ہیں بلکہ کچھ شرمانے کی ہے۔سارے کام ہو جائیں پھر جتنا چاہے کارڈ کھیلیں۔ کبھی پاکستان کارڈ، کھیل کر بھی دیکھیں یاا س کا ٹھیکہ کسی اورکے پاس ہے؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)


قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…

وزیراعظم

میں نے زندگی میں اس سے مہنگا کپڑا نہیں دیکھا تھا‘…

نارمل ملک

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…