اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عثمان بزدار کا انجام جہانگیر ترین جیسا ہونیوالا ہے

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بزدار صاحب کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی شدت کے ساتھ کیا گیا کہ وہ میڈیا سے گھبراتے ہیں اور یہ کہ ٹی وی انٹرویوز نہیں دے سکتے حالانکہ وہ ماضی میں ٹی وی انٹرویوز دے چکے ہیں اور ابھی کل ہی تیز طرار اور سمجھدار اینکر منیب فاروق کو انٹرویو دیا۔ روزنامہ جنگ میں شائع سینئر صحافی سلیم صافی اپنے کالم میںلکھتےہیں کہ ۔۔۔۔اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے

وزیراعلیٰ محمود خان نے آج تک کسی قومی ٹی وی چینل کو انٹرویو نہیں دیا لیکن ان کا نام کوئی نہیں لے رہا ۔بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے انٹرویوز دئیے ہیں لیکن وہ بھی صرف من پسند اینکرز کو شاید پہلے سے معاملات طے کرکے انٹرویو دیتے ہیں۔ بزدار صاحب کئی بار پریس ٹاک بھی کرچکے ہیں ، جہاں وہ مختصر مگر اچھے جواب دیتے ہیں جبکہ منیب فاروق کے انٹرویومیں بھی انہوں نے اچھے جواب دیئے لیکن محمود خان کبھی بھی منیب فاروق جیسے اینکر کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں کریں گے۔کارکردگی کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اعتراض عثمان بزدار پر ہورہا ہے حالانکہ آپ کسی بھی معیار پر پرکھیں تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی ، بزدار صاحب سے کئی گنا زیادہ خراب ہے۔بزدار صاحب نے نیا کچھ نہیں کیا ہوگا لیکن پہلے سے بنی بنائی چیزوں کو بھی تو تباہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا میں پہلے سے قائم اداروں کو تباہ کیا گیا۔ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بی آر ٹی پر اگر پرویز خٹک نے چھ ماہ لگانےتھے تو محمود خان نے ڈیڑھ سال لگادیا حالانکہ پرویز خٹک کے دور میں بنیادی اسٹرکچربن چکا تھا۔ یونیورسٹیاں تباہی سے دوچار ہیں۔ امن و امان کی حالت ابتر ہے۔ پولیس میں سیاسی اور غیرسیاسی مداخلت حد سے بڑھ گئی ہے ۔

ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح پنجاب سے بہت کم ہے ۔جبکہ بلوچستان تو ہر حوالے سے تباہ حال ہے لیکن سیاست اور میڈیا میں تذکرہ صرف پنجاب اور بزدار صاحب کا ہوتا ہے ۔اسی طرح بزدار صاحب کی بعض خوبیوں کو بھی میڈیا نے خامی بنا دیا ہے۔ مثلا ان میں تکبر نہیں اور وہ عجز و انکساری سے کام لیتے ہیں۔ الٹاان کی اس خوبی کو تو میڈیا میں خامی بنا دیا گیا ہے لیکن باقی دو وزرائے اعلیٰ کے

ہاں تکبر نظرآتا ہے ۔ ایک میں قول کا اور دوسرے میں قول کا نہیں لیکن عمل کا تکبر آگیاہے۔تاہم اصل زیادتی بزدار صاحب کے ساتھ اب ہونے جارہی ہے لیکن میڈیا یااہل سیاست کے ہاتھوں نہیں ۔مذکورہ سب خامیوں کے باوجودمحمود خان کی وزارت اعلیٰ کو کوئی خطرہ ہے اور نہ جام کمال کی وزارت اعلیٰ کو۔ خطرہ ہے تو عثمان بزدار کو ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ

ان کا انجام بھی جہانگیر ترین جیسا ہونے والا ہے لیکن کرنے والے مختلف ہوں گے ۔ جہانگیر ترین کے ساتھ جوکچھ ہوا ، وہ خود خان صاحب نے کیا لیکن بزدار صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوگا، وہ خان صاحب نہیں کچھ اور لوگ کریں گے ۔ دیکھتے ہیں یہاں بھی بزدار صاحب کا جادو چلتا ہے یا نیب کے جادوگروں کاجادو ان کے جادو کو شکست دے دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…