جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

35 سالوں سے ملک کو لوٹنے والے واجب القتل قرار،اہم وفاقی وزیر نے خودکو خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کر دیا

datetime 24  اگست‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واہ کینٹ(آن لائن ) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ 35 سالوں سے ملک کو جمہوریت کے نام پر لوٹنے والے ملک دشمن اور واجب القتل ہیں ان کا ہر صورت احتساب ہوگا، ملک کو سیاسی دہشتگردوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، جعلی ڈگریوں والے 760 ملازمین کو فارغ کرچکے،ان میں 28پائلٹس بھی شامل ہیں،چینی کا چوری شدہ مال سندھ بھیج دیا جاتا تھا جہاں بڑے چور بیٹھے ہیں،

خود کہتا ہوں نیب میرا احتساب کرے میرے خاندان کا احتساب کرے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر غلام سرور خان نے وفاقی سیکرٹری اورسیز پاکستانی ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی کے ہمراہ لیبر کمپلیکس ٹیکسلا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں 1979 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔1971 میں مجھے وراثت میں ملی۔ نیب میرا اور میرے خاندان کا بلا تفریق احتساب کرے بلکہ میں نے نیب کو فلور آف دی ہاوس ویلکم کیا تھا۔ غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ٹیکسلا لیبر کمپلیکس 6 مئی 2006 میں جنرل مشرف نے اناؤنس کیا تھا اس کے فیز ون میں 504 فلیٹس بنے یہ پروجیکٹ میری ذات کا نہیں بلکہ صنعتی مزدوروں کے لیے بنایا گیا تھا مگر سابقہ حکومتوں نے اس پروجیکٹ پر کوئی کام کرنا گوارا نہ سمجھا۔ پی او ایف کے شہداء کو مفت فلیٹس دیے جائیں گے یہ فلیٹس لیبرکالونی وزارت اوورسیز کے زیراہتمام بنائے گے تھے جس پر مقامی وکیل نے سٹے آرڈر لے لیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں سیاسی فسادی بھی ہیں جن کا کام ملک کے خلاف کام کرنا اور رفاعہ عامہ کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا ہے ایسے سیاسی فسادیوں کا محاسبہ کرنا ہوگا غلام سرور خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک سو ساٹھ ارب روپے احساس کفالت پروگرام کے تحت مستحق لوگوں میں تقسیم کئے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور عوام کو سات سو سولہ ارب روپے کا بجلی میں ریلیف ملے گا،انہوں نے کہا کہ ملک میں بلا امتیاز احتساب جاری ہے،اپوزیشن کو کسی صورت این آر او نہیں دیا جائیگا،ملک کو بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا،35 سال اقتدار میں رہنے والے ہمیں طعنے دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹنے والے ملک دشمن اور واجب القتل ہیں ان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائیگا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…