جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

عالم اسلام میں ترکی وہ پہلا اسلامی ملک جس نے اسرائیل کو تسلیم کیاپھر ایران نے تعلقات قائم کئے ، پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے؟سلیم صافی کے اہم انکشافات

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم ”اسرائیل، عالم اسلام اور پاکستان” میں لکھتے ہیں کہ دنیا کے 162ممالک جن میں امریکہ، چین ، فرانس ، جرمنی اورروس جیسے اہم ممالک شامل ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ تواس کی سب سے بڑی سرپرست ہے۔

31ممالک الجیریا، بحرین،کیمروج، جبوتی، عراق، کویت ، لبنان،لیبیا، موریطانیہ،مراکش، عمان، قطر، سعودی عرب،صومالیہ، سوڈان، شام،تیونس، یمن،افغانستان، بنگلہ دیش،برونائی،ایران، ملائشیا، انڈونیشیا،مالی، نائیجر اور پاکستان جبکہ تین غیرمسلم ممالک یعنی بھوٹان،کیوبا اور شمالی کوریااسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔عالم اسلام کا پہلا ملک جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا وہ ترکی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ایران نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ۔ امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران کی اسرائیل کے ساتھ دوستی دشمنی میں بدل گئی لیکن اسرائیل کے ساتھ ترکی کے سفارتی تعلقات طیب اردوان کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی برقرار رہے 2005میں طیب اردوان نے اسرائیل کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کی قیادت نے ایران کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے عزم کے خلاف مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔پھر 2007 میں اسرائیل کے وزیراعظم شمعون پیریز نے ترکی کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ انہیں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے خطاب کا موقع بھی دیا گیا۔تاہم غزہ فلوٹیلا پر حملے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوگئے۔ کئی سال تعلقات کشیدہ رہے لیکن پھر خفیہ ملاقاتوں کے نتیجے میں 2016میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معمول پر آگئے ۔

ترکی نے ماضی میں فلسطین اور اسرائیل میں ثالثی کرانے کی بھی کوشش کی جبکہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمودقصوری اور اسرائیلی حکام کی میٹنگ بھی ترکی میں وہاں کی قیادت کی خواہش اور ثالثی کے ساتھ ہوئی تھی۔ آگے جا کر سلیم صافی لکھتے ہیں کہ امریکہ نے بھی عرب ممالک پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے دبائو بڑھا دیا ہے۔ یوں امریکہ کے دبائو اور ایران و ترکی کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب اور یواے ای وغیرہ نے اسرائیل کے ساتھ اپنی مخاصمت کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

تازہ اقدام امریکہ کی ثالثی سے متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا سامنے آیا لیکن نہ جانے پاکستان کی بعض مذہبی جماعتیں کیوں اس بنیاد پر متحدہ عرب امارات کو دشمن بنانے پر تل گئی ہیں؟ہماری اپنی حالت یہ ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان نے ہڑپ کرلیا ہے اور دنیا پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ علاوہ ازیں پاکستان بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور اس تناظر میں اسے دوستوں کی اشدضرورت ہے ۔ ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے ۔خود پاکستان کو قطعااسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کی عوام کی واضح اکثریت ایسا نہیں چاہتی لیکن دوسرے ممالک کے فیصلوں پر ہماری برہمی کاکیا جواز؟۔

کیا ہم کل ترکی اور چین کے خلاف بھی جلوس نکالیں گے کیونکہ ان دونوں ممالک کے بھی تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں؟۔کیا اب ہم ایران کے خلاف بھی مظاہرے کریں گے کہ اس کی ہمارے دشمن نمبرون ہندوستان کے ساتھ دوستی کیوں ہے؟ ۔ ہمیں اپنے ملک کی فکر کرنی چاہئے لیکن یہ کوئی عقل مندی نہیں کہ اس نازک موڑ پر جبکہ سعودی عرب کو حکومت نے ناراض کیا ہے،متحدہ عرب امارات کو ہماری مذہبی جماعتیں ناراض کرنے لگی ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…