میاں نواز شریف ملک میں واپس آنے سے پہلے اعلان کریں یہ چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں،مریم نوازاور حمزہ شہباز شریف کو بھی سیاست سے نکال لیںتاکہ ۔۔ورنہ دوسری صورت میں کیا ہو گا ؟ جاوید چودھری نے ن لیگ کے مستقبل کا خوفناک نقشہ کھینچ دیا

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  20:03

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’نواز شریف کیا سوچ رہے ہیں‘‘میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔میں نے چند دن قبل یہ سوال میاں نواز شریف کی ایک انتہائی قریبی شخصیت سے کیا تھا‘ مجھے ان کے جواب نے حیران کر دیا‘ ان کا کہنا تھا” میاں نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں لیکن ہم اس کے باوجود انہیں روز واک کرا کر آفس لے جاتے ہیں‘ یہ ایک گھنٹہ واک کر لیتے ہیں‘آفس میں بیٹھتے ہیں‘ کافی پیتے ہیں‘ ٹی وی دیکھتے ہیں اور تھوڑی دیر سوشل میڈیا کو دیتے ہیں‘ ان کے ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر عدنان کا خیال


ہے یہ اب خطرے سے باہر ہیں چناں چہ انہیں مشکل آپریشنز سے نہیں گزارنا چاہیے۔میاں نواز شریف بھی ان سے اتفاق کر رہے ہیں اور یہ پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں مگر ان کی فیملی نہیں مان رہی جب کہ میاں صاحب اصرار کر رہے ہیں‘ یہ اپنی اہلیہ کی طرح تابوت میں بند ہو کر پاکستان نہیں جانا چاہتے‘ یہ ٹانگوں پر چل کر لاہور میں جہاز سے اترنا چاہتے ہیں‘ یہ جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں“ میاں نواز شریف کی قریبی شخصیت نے انکشاف کیا ”مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اے پی سی کا فیصلہ میاں نواز شریف نے کیا تھا‘ مولانا نے ان کی رضا مندی سے دوسری پارٹیوں سے رابطہ کیا تھا۔عید کے بعد کی تاریخ بھی میاں نواز شریف کی مرضی سے دی گئی تھی‘ یہ حکومت کے تین بلوں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل ‘ سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل اورباہمی قانونی معاونت پر حکومت کو سپورٹ نہیں دینا چاہتے تھے اور انہوں نے اپنی پارٹی کو بلوں کی حمایت سے روک دیا تھا لیکن پھر جوائنٹ سیشن سے قبل رات کے وقت مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا آپ کی پارٹی صبح حکومتی بل کی حمایت کر رہی ہے۔یہ خبر میاں نواز شریف کے لیے حیران کن تھی‘ انہوں نے رات تین بجے شاہد خاقان عباسی کو ایس ایم ایس کیا اور انہیں صبح مولانا فضل الرحمن سے ملنے اور ان کی مرضی کے مطابق چلنے کی ہدایت دی لیکنشاہد خاقان عباسی صبح یہ نہ کر سکے اور میاں شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتی بل پاس ہو گئے‘ میاں نواز شریف کو یہ بھی معلوم ہو گیا بلوں کی منظوری سے قبل کون کس سے ملتا رہا اور کس نے کس کو حمایت کا یقین دلایا چناں چہ میاں نواز شریف نے پارٹی کے تمام امور اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ جن لوگوں سے ناراض ہیں‘ انہوں نے انہیں سائیڈ لائین کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہےلہٰذا چند دنوں میں پارٹی کی پہلی صف میں بیٹھے لوگ آخری صف میں چلے جائیں گے اور پچھلی صفوں میں موجود لوگ سامنے آ جائیں گے‘ میاں نواز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ بھی کسی صحت مند اور متحرک شخص کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ اس کا فیصلہ مولانا فضل الرحمن سے مشورے سے کریں گے“۔میاں نواز شریف کیا کرتے ہیں یہ فیصلہ چند دن میں ہوجائے گاتاہم ہمیں یہ ماننا ہو گا میاں نواز شریف میک یا بریک اور ناؤ یا نیور کے پوائنٹ پر آ چکے ہیں۔وہ اگر اب بھی خاموش رہتے ہیں اور گومگو کی حالت سے باہر نہیں آتے تو پھر یہ سیاست اور پارٹی دونوں سے محروم ہو جائیں گے‘ مارچ میں سینٹ کے الیکشن ہوں گے اور پاکستان تحریک انصاف کو سینٹ میں بھی اکثریت مل جائے گی جس کے بعد حکومت کے بند ہاتھ کھل جائیں گے اور یہ قانون سازی کےانبار لگا دے گی اور یہ نیب کو مزید اختیارات بھی دے دے گی چناں چہ میاں نواز شریف کے پاس زیادہ وقت نہیں لیکن بڑے فیصلے کرنے سے قبل میاں نواز شریف کو ایک اور فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔انہیں ن لیگ کو خاندانی پارٹی کے تاثر سے باہر نکالنا ہو گا اور اپنی ذات کو بھی اقتدار سے بالاتر کرنا ہوگا‘ میرا مشورہ ہے میاں نواز شریف ملک میں واپس آنے سے پہلے اعلان کریں یہ چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کےامیدوار نہیں ہوں گے‘ یہ صرف پارٹی کے قائد بن کر باقی زندگی گزاریں گے اور یہ پھر مریم نوازاور حمزہ شہباز شریف کو بھی سیاست سے نکال لیں تاکہ پارٹی صرف میرٹ پر چل سکے‘ اگر میاں نواز شریف یہ کر لیتے ہیں اور یہ اگلے دو مہینوں میں واپس آ جاتے ہیں تو ن لیگ بھی بچ جائے گی اور میاں نواز شریف بھی ورنہ دوسری صورت میں ملک کی سب سے بڑی جماعت اور دلوں کے قائد میاں نواز شریف دونوں سیاست سے فارغ ہو جائیں گے لہٰذا پارٹی کا مقدر اب صرف اور صرف میاں نواز شریف کے فیصلوں پر منحصر ہے‘ آر یا پار‘ یہ اب اس گومگو کو مزید نہیںچلا سکیں گے ۔


زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎